الجزائر:’یرغمالیوں کا بحران ابھی ختم نہیں ہوا‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 18 جنوری 2013 ,‭ 08:45 GMT 13:45 PST

جمعرات کو رات گئے تک گیس فیلڈ میں تلاش کا کام جاری تھا

برطانیہ کا کہنا ہے کہ الجزائر کے صحرائی علاقے میں واقع گیس فیلڈ میں اسلام پسند شدت پسندوں کے ہاتھوں الجزائری اور غیر ملکی افراد کے یرغمال بنائے جانے کا بحران ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے۔

برطانوی دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ الجزائر کے شمالی علاقے میں واقع ’ان امیناس‘ گیس فیلڈ میں دہشتگردی کا واقعہ ابھی جاری ہے۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ ’حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اور ہمیں مزید بری خبروں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بھی الجزائر کے حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ فوج تاحال سارے علاقے کو محفوظ نہیں بنا سکی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کا بھی کہنا ہے کہ غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق گیس فیلڈ کے احاطے میں شدت پسندوں کے چھوٹے چھوٹے گروہ اور کچھ یرغمالی موجود ہیں۔

اس سے قبل یہ بات سامنے آئی تھی کہ گیس فیلڈ میں یرغمال بنائے جانے والے مقامی اور غیرملکیوں کی رہائی کے لیے جمعرات کو ہونے والے فوجی آپریشن کے بعد متعدد یرغمالی لاپتہ ہیں۔

القاعدہ سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے بدھ کو اس گیس فیلڈ پر قبضہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی الجزائر کے ہمسایہ ملک مالی میں فرانسیسی مداخلت کا ردعمل ہے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق اس آپریشن میں چار غیر ملکی یرغمالی ہلاک ہوئے ہیں۔ اسلام پسند شدت پسندوں نے بیالیس غیرملکیوں کو یرغمال بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

الجزائر کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی ایس نے مقامی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ کارروائی میں ہلاک ہونے والوں میں دو برطانوی اور دو فلپائنی شہری ہیں۔ ایک برطانوی اور ایک الجزائری شخص بدھ کو شدت پسندوں کےگیس فیلڈ پر حملے کے دوران ہلاک ہوا تھا۔

فوجی آپریشن کی تفصیلات بھی ابھی واضح نہیں اور اے پی ایس نے فوج کے حوالے سے بتایا ہے کہ آپریشن کے دوران گیس فیلڈ سے فرار ہونے والی دو گاڑیوں کو بھی تباہ کیا گیا ہے جن میں نامعلوم تعداد میں لوگ سوار تھے۔

یہ گیس فیلڈ لیبیا کی سرحد کے قریب ہی واقع ہے

شدت پسندوں نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ الجزائر کی فوج کو آپریشن میں فضائیہ کی مدد بھی حاصل تھی۔ شدت پسندوں کے ایک ترجمان نے موریطانیہ کے خبر رساں ادارے سے بات چیت میں فوجی کارروائی کے دوران ہیلی کاپٹروں کی فائرنگ سے پینتیس یرغمالیوں اور اپنے پندرہ ساتھیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سات غیرملکی یرغمالیوں کو ان کے قبضے سے چھڑوا لیا گیا ہے۔

جمعرات کو فوجی آپریشن کے نتیجے میں رہا کروائے جانے والوں کی کل تعداد کے بارے میں تاحال تصدیق نہیں ہو سکی ہے جبکہ برطانوی حکام نے اس آپریشن میں متعدد برطانوی شہریوں کی ہلاکتوں کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔

الجزائر کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی ایس کے مطابق جمعرات کو ہونے والی فوجی کارروائی میں چھ سو الجزائری اور چار غیر ملکی یرغمالی رہا کروائے گئے۔ ان غیرملکیوں میں سکاٹ لینڈ کے دو اور فرانس اور کینیا کا ایک ایک شہری شامل ہے۔

آئرلینڈ کی حکومت نے اپنے ایک، امریکہ نے پانچ جبکہ چاپان نے تین شہریوں کی بازیابی کی تصدیق کی ہے تاہم جاپانی اور نارویجن حکام کا کہنا ہے کہ ان کے بالترتیب چودہ اور آٹھ شہری اب بھی لاپتہ ہیں۔

الجزائر کے وزیرِ اطلاعات محمد سعید بلیدی نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کی قابلِ ذکر تعداد ہلاک کر دی گئی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ ابھی ہلاکتوں کی صحیح تعداد کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

بی بی سی کے نک رابنسن کا کہنا ہے کہ بیس کے قریب یرغمالی آپریشن کے بعد لاپتہ ہیں اور برطانوی حکام اس آپریشن میں ہلاک ہونے والے برطانیوں کے بارے میں الجزائر کی حکومت کی طرف سے اطلاعات کے منتظر ہیں۔

الجزائر کے وزیر داخلہ داہو اولد کبلیا نے بتایا تھا کہ یہ شدت پسند الجزائری ہیں اور پچھلے سال تک القاعدہ سے تعلق رکھنے والی اسلامک مغرب نامی تنظیم کے کمانڈر مختار بالمختار کے زیر اثر کام کرتے تھے۔

اے ایف پی کے مطابق وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ شدت پسند لیبیا سے الجزائر میں داخل ہوئے تھے۔ یہ گیس فیلڈ لیبیا کی سرحد کے قریب ہی واقع ہے اور اسے برٹش پیٹرولیم کمپنی الجزائر کی سرکاری آئل کمپنی اور نارویجن کمپنی سٹیٹ آئل کے تعاون سے چلاتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔