الجزائر: 30 غیر ملکی یرغمالی ابھی تک لاپتہ

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 18 جنوری 2013 ,‭ 17:02 GMT 22:02 PST

اس گیس فیلڈ پر کئی سو افراد کام کرتے تھے جن کا تعلق مختلف ممالک سے تھا

الجزائر کے مشرقی صحرائی علاقے میں ’ان امیناس‘ گیس فیلڈ میں یرغمال بنائے گئے افراد میں سے سینکڑوں افراد کو رہا کروا لیا گیا ہے جبکہ تیس کے قریب غیر ملکی افراد کے بارے میں ابھی تک کوئی معلومات نہیں ہیں۔

رہا کروائے جانے والے افراد میں سے پانچ سو تہتر الجزائری شہری جبکہ ایک سو بتیس غیر ملکی افراد میں سے سو کے قریب شامل ہیں۔

الجزائر کی خبر رساں ادارے اے پی ایس کے مطابق شدت پسند ابھی تک گیس فیلڈ میں چھپے ہوئے ہیں جن میں ابھی تک دس کے قریب برطانوی شہری بھی بتائے جاتے ہیں۔

جمعرات کو الجزائر کی فوج کی جانب سے کارروائی کے دوران چار غیر ملکی ہلاک ہو گئے تھے۔

واضح رہے کہ ابھی تک یرغمال بنائے جانے والے افراد کی کل تعداد معلوم نہیں ہے جبکہ دوسری جانب کئی افراد نے فیلڈ کے مختلف مقامات پر پناہ لے رکھی ہے۔

اسی اثناء میں برٹش پٹرولیم نے جمعے کے روز کہا تھا سینکڑوں غیر ملکی افراد جو بین القوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں ان کو الجزائر سے نکال لیا گیا ہے اور مزید کو نکالا جا رہا ہے۔

اس واقعے کے بعد برٹش پٹرولیم نے اپنے تمام عملے کو ملک سے نکالنے کا فیصلہ کیا جو ہوائی اڈے پر جمع ہیں

جمعے کی صبح اس حملے میں ملوث شدت پسندوں کے ایک ترجمان نے موریطانیہ کی خبر رساں ادارے اے این آئی کو بتایا تھا کہ وہ اسی نوعیت کے مزید حملے بھی کریں گے۔

انہوں نے الجزائری شہریوں کو خبردار کیا کہ وہ ’غیر ملکی کمپنیوں کی تنصیبات سے دور رہیں کیونکہ ہم ان پر حملہ کریں گے جہاں بہت کم امکان ہو گا۔‘

الجزائر نے ابھی تک اس کارروائی میں ہلاکتوں کے مکمل اعدادوشمار دینے ہیں۔

الجزائر کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی ایس نے مقامی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ کارروائی میں ہلاک ہونے والوں میں دو برطانوی اور دو فلپائنی شہری ہیں۔

ایک برطانوی اور ایک الجزائری شخص بدھ کو اس وقت ہلاک ہو گئے جب شدت پسندوں نے ایک بس پر حملہ کیا جو غیر ملکی کارکنوں کو گیس فیلڈ سے لے کر ہوائی اڈے پر جا رہی تھی۔

شدت پسندوں کے ایک ترجمان نے الجزائر کے خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پینتیس یرغمالی اور پندرہ شدت پسند جمعرات کو ہونے والی کارروائی میں ہلاک ہو گئے تھے۔ دوسری جانب ایک الجزائری اہلکار نے کہا کہ یہ اعداد و شمار مبالغے پر مشتمل ہیں۔

اس گیس فیلڈ کو الجزائر کی آئل کمپنی ناروے کی سٹیٹ آئل اور برٹش پٹرولیم سے مل کر چلاتی ہے

ان امیناس گیس فیلڈ الجزائر کی سرکاری تیل کمپنی چلاتی ہے جس میں برطانوی برٹش پٹرولیم اور ناروے کی سٹیٹ آئل شراکت کرتی ہیں۔

ان امیناس نامی یہ گیس فیلڈ الجزائر کے دارالحکومت الجئرز کے جنوب مغرب میں تقریباً چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک قصبے ان امیناس میں واقع ہے۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے برطانوی دارلعوام سے خطاب میں کہا کہ انہیں ان کے الجزائری ہم منصب نے عبدالمالک سِلال نے بتایا ہے کہ ان کے فوجی ابھی تک ’دہشت گردوں کے پیچھے ہیں اور ممکنہ طور پر بعض یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بھی۔‘

برطانوی وزیر اعظم نے جمعرات کو بتایا تھا کہ اس واقعے میں ملوث برطانوی شہریوں کی تعداد تیس سے کم ہے لیکن یہ کہ اب یہ بہت نمایاں حد تک کم ہو چکی ہے۔

جاپانی حکام کی جانب سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ کم از کم چودہ جاپانی شہری اب تک لاپتہ ہیں جبکہ کم از کم تین فرار ہونے میں کامیاب ہو ئے ہیں۔

جاپان کے چیف سیکرٹری یوشیدہ سوگا نے الجزائری سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں پر ’گہرے دکھ‘ کا اظہار کیا اور جاپان نے الجزائر کے سفیر کو بھی وزارتِ خارجہ میں طلب کیا۔

یہ گیس فیلڈ لیبیا کی سرحد کے قریب ہی واقع ہے

رابطوں کی درخواستوں اور اس بات کے بار بار باور کروانے کے باوجود کے یرغمالیوں کی حفاظت کو مدنظر رکھا جائے برطانیہ، امریکہ اور جاپان کا کہنا ہے کہ انہیں فوجی کارروائی کے بارے میں پہلے نہیں بتایا گیا تھا۔

ناروے کا کہنا ہے کہ اس کے آٹھ شہری اب تک لاپتہ ہیں جبکہ ایک کا ان امیناس میں ایک ہسپتال میں علاج ہو رہا ہے جبکہ چار بغیر کسی نقصان کے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

فرانس کے وزیر داخلہ مینوئل والز نے کہا کہ دو فرانسیسی کارکن محفوظ ہیں اور یہ واضح نہیں ہے کہ اور دو بھی اس جگہ پر ہیں یا نہیں۔

حکام کے مطابق ایک آئرش، ایک آسٹرین اور پانچ امریکی شہریوں کو آزاد کروا لیا گیا ہے۔

فرانسیسی شہری الیگزینڈر برژیو نے فرانسیسی میڈیا کو بتایا کہ وہ چالیس گھنٹوں تک اپنے بستر کے نیچے چھپے رہے جس کے بعد انہیں رہا کروایا گیا۔

’جب فوجی مجھے لینے آئے تو مجھے نہیں پتا تھا کہ یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔ ان کے ساتھ میرے کئی دوسرے ساتھی تھے ورنہ میں کبھی بھی دروازہ نہ کھولتا‘۔

الجزائر کی جانب سے فوجی کارروائی پر امریکہ، برطانیہ اور جاپان کا کہنا ہے کہ انہیں اس سے لاعلم رکھا گیا تھا

القاعدہ سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے بدھ کو اس گیس فیلڈ پر قبضہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی الجزائر کے ہمسایہ ملک مالی میں فرانسیسی مداخلت اور مغرب میں القائدہ کے خلاف کارروائیوں کا ردعمل ہے۔

بی بی سی کے سکیورٹی نامہ نگار کے مطابق اغوا کرنا ایک بہت پیچیدہ کارروائی ہوتی ہے جس کے بارے میں ان کا یہ خیال ہے کہ اس کی منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہو گی کیونکہ فرانس نے پچھلے جمعے کو ہی تو اچانک مالی میں فوجی مداخلت کی ہے۔

الجزائر کے وزیر داخلہ داہو اولد کبلیا نے بتایا تھا کہ یہ شدت پسند الجزائری ہیں اور پچھلے سال تک القاعدہ سے تعلق رکھنے والی اسلامک مغرب نامی تنظیم کے کمانڈر مختار بالمختار کے زیر اثر کام کرتے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔