سونے کی ساڑھے پانچ کلو وزنی ٹکڑے کی دریافت

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 18 جنوری 2013 ,‭ 04:55 GMT 09:55 PST

سونے کے ٹکڑے کی ایک ویڈیو یو ٹیوب پر بھی اپ لوڈ کی گئی ہے

آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریہ میں شوقیہ طور پر سونا تلاش کرنے والے ایک شخص نے ساڑھے پانچ کلو وزنی سونے کی ڈلی دریافت کی ہے جسے ماہرین ایک حیرت انگیز واقعہ قرار دے رہے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق اس ڈلی کی قیمت تین لاکھ آسٹریلوی یا تین لاکھ پندرہ ہزار امریکی ڈالر کے لگ بھگ ہے۔

اس نامعلوم شخص نے بالارات نامی قصبے میں بدھ کو ایک دھاتوں کی نشاندہی کرنے والے آلے کی مدد سے یہ ڈلی ڈھونڈی جو کہ زمین کے دو فٹ نیچے موجود تھی۔

مقامی ماہرین کے مطابق اس علاقے میں سونے کی تلاش کا عمل کئی دہائیوں سے جاری ہے لیکن اتنے بڑے ٹکڑے کی دریافت شاذونادر ہی ہوتی ہے۔

بالارات مائیننگ ایکسچینج گولڈ شاپ کے مالک کورڈل کینٹ کا کہنا ہے کہ ’میں خود دو دہائیوں سے سونے کی تلاش کرتا ہوں اور مجھے نہیں یاد کہ یہاں کبھی سو اونس سے بھاری ٹکڑا ملا ہو۔‘

اس سونے کے ٹکڑے کی ایک ویڈیو بدھ کو یو ٹیوب پر بھی اپ لوڈ کی گئی ہے۔ ویڈیو اپ لوڈ کرنے والے صارف کے مطابق سونے کا ٹکڑا ڈھونڈنے والا شخص جب میٹل ڈیٹیکٹر اس کے قریب لایا تو اسے لگا کہ وہاں کوئی بہت بڑی چیز ہے جیسے کہ گاڑی کا بونٹ۔

کورڈل کینٹ کے مطابق اس ٹکڑے کا وزن 177 اونس ہے اور اس وقت آسٹریلیا میں سونے کی فی اونس قیمت سولہ سو ڈالر ہے لیکن چونکہ یہ ٹکڑا وزن میں ایک کلو سے زائد ہے تو اس کی فی اونس قیمت نسبتاً زیادہ لگ سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ٹکڑا تلاش کرنے والا شخص بہترین قسم کا میٹل ڈیٹیکٹر استعمال کر رہا ہوگا جبھی وہ نسبتاً زیادہ گہرائی میں دبا ہوا یہ ٹکڑا تلاش کرنے میں کامیاب رہا ورنہ اس علاقے میں لوگ کافی عرصے سے سونا تلاش کرتے رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔