’حمص میں ایک سو افراد کا قتلِ عام‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 18 جنوری 2013 ,‭ 15:54 GMT 20:54 PST

بی بی سی نے وسطی شام کے علاقے حمص میں قتلِ عام کے شواہد دیکھے ہیں جس میں منگل اور بدھ کو ایک سو افراد ہلاک ہوئے۔

شواہد کے مطابق حمص کے گاؤں حواسیہ میں منگل اور بدھ کو مکانوں کو آگ لگائی گئی تاہم یہ کارروائی حکومت یا باغیوں نے کی اس کے بارے میں متضاد رائے سامنے آئی ہیں۔

حواسیہ میں قتل عام کی رپورٹ جمعرات کو اس وقت سامنے آئی جب اس کو باغی اس ایشو کو منظرِ عام پر لے کر آئے۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

شام کی فوج نے بی بی سی کو بتایا کہ لاشوں کو پہلے ہی کوئی لے گیا تھا۔ تاہم بی بی سی کے نامہ نگاروں قتلِ عام کے نشانات اس علاقے میں دیکھے۔

لیس ڈیوسٹ نے ایک مکان کے اندر تین جلی ہوئی لاشیں دیکھیں اور سیمینٹ کے فرش پر خون کے نشانات موجود تھے۔

’باورچی خانے میں چائے کی پیالیاں شیلف پر پڑی تھیں جبکہ فرش پر گولیوں کے خول بکھرے پڑے تھے اور خون کے نشانات موجود تھے۔ مکان کے ایک اور کمرے میں بستر کے قریب دو افراد کی جلی ہوئی لاشیں تھیں۔‘

گاؤں کے رہائشیوں نے بتایا کہ کم از کم ایک سو افراد کو قتل کیا گیا۔

شامی فوج بی بی سی ٹیم کے ہمراہ تھی اور انہوں نے بتایا کہ نصرہ فرنٹ سے تعلق رکھنے والے باغی قتلِ عام کے ذمہ دار ہیں۔

ایک اور خاتون نے بھی یہی بی بی سی ٹیم کو بتایا۔

تاہم شامی فوج کی غیر حاضری میں ایک عورت کا کہنا تھا کہ قتلِ عام کے وقت فوج اس علاقے میں موجود تھی اور چند فوجیوں نے معذرت بھی کی کہ دیگر فوجیوں نے احکامات نہ ہونے کے باوجود یہ کارروائی کی ہے۔

یاد رہے کہ حمص اور اس کے قریبی علاقوں میں پرتشدد کارروائیاں ہوئی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔