الجزائر میں اموات کے ذمہ دار شدت پسند ہیں، اوباما

آخری وقت اشاعت:  اتوار 20 جنوری 2013 ,‭ 09:16 GMT 14:16 PST

گیس پلانٹ میں موجود 685 الجزائری اور 132 میں سے 107 غیر ملکی کارکنوں کو رہا کیا گیا ہے

امریکی صدر براک اوباما نے الجزائر کے شمالی صحرا میں واقع گیس فیلڈ پر کارروائی میں تئیس یرغمالی اہلکاروں کی موت کے لیے شدت پسندوں کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔

الجزائر کے شمالی صحرا میں واقع گیس فیلڈ پر چار دن سے قابض شدت پسندوں کے خلاف الجزائری فوج کی کارروائی سنیچر کو مکمل ہو گئی تھی اور حکام کے مطابق کارروائی میں تئیس یرغمالی اور بتیس شدت پسند ہلاک ہوئے جبکہ کئی غیر ملکی ملازمین اب بھی لاپتہ ہیں۔

سنیچر کو ہونے والی فیصلہ کن کارروائی میں گیارہ شدت پسند ہلاک ہوگئے تاہم کارروائی کے دوران وہ ساتوں غیرملکی بھی مارے گئے ہیں جنہیں شدت پسندوں نے یرغمال بنایا ہوا تھا۔

برطانیوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اتوار کو تصدیق کی کہ اس واقعے میں تین برطانوی شہری ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ مزید تین شہریوں کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔

اس کے علاوہ ناروے کے پانچ شہری اور دس جاپانی شہری یا تو ہلاک ہوگئے ہیں یا لاپتہ ہیں۔ وہیں الجزائر کا کہنا ہےکہ اس کی فوج نے یرغمال بنانے والے بتیس افراد کو ہلاک کردیا ہے۔

صدر براک اوباما نے سنیچر کو کہا کہ ’یہ حملہ القاعدہ اور شمالی افریقہ میں سرگرم شدت پسند گروپوں سے لاحق خطرہ کی یاد دہانی ہے۔‘

براک اوباما نے کہا کہ ان کا ملک علاقے سے دہشت گردی کی لعنت ختم کرنے کے لیے اپنے اتحادیوں کے ساتھ کام جاری رکھے گا۔

اس کے علاوہ فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نےالجزائر کی جانب سے مسئلے سے نمٹنے کی حکمت عملی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سب سے مناسب تھا۔

الجزائر کی سرکاری خبر رساں ادارے اے پی ایس نے ملک کے وزارت داخلہ کے حوالے سے بتایا کہ گیس پلانٹ میں موجود 685 الجزائری اور 132 میں سے 107 غیر ملکی کارکنوں کو رہا کیا گیا ہے۔

"یہ حملہ القاعدہ اور شمالی افریقہ میں سرگرم شدت پسند گروپوں سے لاحق خطرہ کی یاد دہانی ہے"

سنیچر کو اس آپریشن کے آخری اور فیصلہ کن مرحلے میں فوجیوں نے اس ورکشاپ کوگھیرا جہاں شدت پسندوں نے کچھ غیرملکیوں کو یرغمال بنایا ہوا تھا۔

راکٹ لانچروں اور مشین گنوں سے لیس شدت پسندوں نے مورطانیہ کی خبر رساں ایجنسی کو بتایا تھا کہ ان کے پاس سات یرغمالی تھے۔

الجزائر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی ایس کے مطابق فوجی حکام نے کہا ہے کہ ساتوں یرغمالیوں کو شدت پسندوں نے ہی ہلاک کیا جبکہ شدت پسند فوجیوں کی فائرنگ کا نشانہ بنے۔ تاہم اس خبر کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

ان ہلاکتوں سے قبل دو دن کے آپریشن میں بارہ افراد مارے گئے جن میں الجزائری اور غیر ملکی باشندے دونوں شامل ہیں۔

بعض یرغمالیوں کی قومی شناخت ابھی بھی واضح نہیں ہوئی ہے۔

"القاعدہ کو سمجھ لینا چاہیے کہ اب انہیں کہیں پناہ نہیں ملے گی۔ نہ الجزائر میں نہ مالی میں کہیں بھی نہیں۔ ہم انہیں کہیں ایسی جگہ چھپنے نہیں دیں گے جہاں سے وہ اپنی دہشتگردی جاری رکھ سکیں۔"

برطانوی وزارت خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے بعض برطانوی شہری جو شدت پسندوں کی گرفت میں تھے محفوظ وطن واپس لوٹ آئے ہیں۔

حالانکہ برطانوی وزارت خارجہ نے اس بارے میں کوئی تفصیلات نہیں جاری کی ہیں۔

القاعدہ سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے بدھ کو ’ان امیناس‘ گیس فیلڈ پر قبضہ کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی الجزائر کے ہمسایہ ملک مالی میں فرانسیسی مداخلت اور مغرب میں القاعدہ کے خلاف کارروائیوں کا ردعمل ہے۔

الجزائر کی فوج نے جمعرات سے گیس فیلڈ پر موجودد سینکڑوں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے آپریشن شروع کیا تھا اور اس دوران پانچ سو تہتر الجزائری شہریوں جبکہ ایک سو بتیس غیر ملکیوں میں سے سو کے قریب افراد کو بازیاب کروایا جا سکا تھا۔

ناروے کی آئل کمپنی سٹیٹ آئل نے جو برٹش پیٹرولیم اور الجزائر کی سرکاری تیل کمپنی سے مل کر یہ کارخانہ چلاتی ہے، سنیچر کی صبح بتایا تھا کہ اس کے مزید دو ملازمین محفوظ مقام پر پہنچے ہیں جبکہ چھ تاحال لاپتہ ہیں۔

فرانسیسی وزیرِ دفاع نے بھی سنیچر کو بتایا تھا کہ اب شدت پسندوں کے قبضے میں کوئی فرانسیسی شہری موجود نہیں۔

الجزائر کا کہنا تھا کہ یہ شدت پسند مختار بلمختار نامی شدت پسند کمانڈر سے احکامات لے رہے تھے۔ مختار گزشتہ سال تک مالی سے تعلق رکھنے والی شدت پسند تنظیم اے کیو آئی ایم (القاعدہ ان اسلامک مغرب) کے کمانڈر تھے۔

ان شدت پسندوں نے امریکی یرغمالیوں کو رہا کرنے کے لیے امریکہ میں قید پاکستانی نژاد ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور مصری نژاد شیخ عمر عبد الرحمٰن کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا تھا جسے مسترد کر دیا گیا تھا۔

اس گیس فیلڈ پر کئی سو افراد کام کرتے تھے جن کا تعلق مختلف ممالک سے تھا

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ایک امریکی فوجی اہلکار کو قتل کرنے کی کوشش کرنے پر 2010 میں جبکہ شیخ عمر عبدالرحمٰن کو نیویارک میں 1993 میں بم دھماکوں کے جرم میں سزا ہوئی تھی۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نیولینڈ نے کہا کہ’امریکہ دہشت گردوں سے مذاکرات نہیں کرتا۔‘

ادھر امریکی وزیرِ دفاع لیون پنیٹا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ القاعدہ کو کہیں جائے پناہ نہیں ملے گی۔ ’ القاعدہ کو سمجھ لینا چاہیے کہ اب انہیں کہیں پناہ نہیں ملے گی۔ نہ الجزائر میں نہ مالی میں کہیں بھی نہیں۔ ہم انہیں کہیں ایسی جگہ چھپنے نہیں دیں گے جہاں سے وہ اپنی دہشتگردی جاری رکھ سکیں۔‘

امریکہ کی سیکرٹری خارجہ ہلیری کلنٹن نے بھی صورتحال کو ’مشکل اور خطرناک‘ قرار دیا تھا جبکہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے لوگوں کو یرغمال بنائے جانے کو گھناؤنا جرم قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی تھی اور کہا تھی کہ اس کارروائی کے منتظمین، اس کے معاونین اور اسے سرانجام دینے والوں کو قانون کے شکنجے میں لانا ضروری ہے۔

فرانس کی حکومت نے شدت پسندوں کے خلاف الجزائر کی حکومت کی کاروائی کی ستائش کی تھی وہیں برطانیہ کی حکومت کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں کی کاروائی کا کوئی جواز نہیں تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔