شام: حزب اختلاف کو مذاکرات کی دعوت

آخری وقت اشاعت:  اتوار 20 جنوری 2013 ,‭ 02:34 GMT 07:34 PST

شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے ملک کی حزب اختلاف کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہتھیار ڈال کر ایک نئی حکومت کی تشکیل پر بات چیت میں شامل ہوں۔

شامی وزیر خارجہ کے مطابق حزب اختلاف کا کوئی بھی گروپ غیر ملکی مداخلت کو مسترد کر کے نئی کابینہ کا حصہ بن سکتا ہے۔

وزیر خارجہ ولید المعلم نے سرکاری ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں مزید کہا ہے کہ صدر بشارالاسد کے مستقبل کے حوالے سے بات چیت کرنا قابل قبول نہیں ہے۔

شام میں باغیوں کے ایک بڑے گروپ کا کہنا ہے کہ شامی صدر کو ان کے عہدے سے ہٹائے جانے کے علاوہ کچھ بھی منظور نہیں۔

وزیر خارجہ ولید المعلم نےکہا ہے کہ قتل و غارت کے باوجود موجودہ حکومت آئندہ تین ماہ تک بات چیت اور اقتدار کی منتقلی کے طریقہ کار پر کام کرتی رہے گی۔

’ ایک سوال کہ اگر تشدد نہیں رکتا تو کیا ہمیں بات چیت جاری رکھنی چاہیے؟ تو میرے خیال میں ایسا جاری رہنا چاہیے‘۔

انہوں نے شامی صدر کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایک نئی پارلیمان اور آئین ہی تنازع سے نکلنے کا حل ہے۔

شامی وزیر خارجہ کا ایک یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک ہفتہ پہلے ہی شام کے لیے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی اخضر ابراہیمی نے کہا تھا کہ شامی صدر اقتدار منتقل کرنے والی حکومت کا حصہ نہیں ہو سکتے۔

وزیر خارجہ ولید المعلم کے مطابق کسی کو یہ ہمت نہیں چاہیے کہ صدر کی پوزیشن کے بارے میں بات کرے۔۔۔ یہ ناقابل قبول ہے‘۔

انہوں نے اقوام متحدہ سے کہا کہ وہ شامی سرحدوں کے تحفظ کے لیے مداخلت کرے اگرچہ شامی حکومت اس پر رضامند ہے کہ یہ کیسے حاصل کیا جائے۔

خیال رہے کہ شام میں مارچ سال دو ہزار گیارہ سے جاری تنازع میں اقوام متحدہ کے مطابق ساٹھ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔