افغان جیلوں میں تشدد عام ہے: اقوام متحدہ

آخری وقت اشاعت:  پير 21 جنوری 2013 ,‭ 22:40 GMT 03:40 PST

رپورٹ میں تشدد اور بدسلوکی کے چودہ مختلف طریقوں کی نشاندہی کی گئی

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ افغانستان کی جیلوں میں قیدیوں پر تشدد کے وسیع تر واقعات سال دو ہزار گیارہ کی طرح جاری ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سال دو ہزار گیارہ میں اس کی رپورٹ میں تشدد کے واقعات منظرِ عام پر لائے گئے تھے اور ان کی روک تھام کے حوالے سے دی گئی تجاویز کے باوجود یہ سلسلہ اسی طرح جاری ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق تفیش کے دوران زیر حراست چھ سو پنتیس قیدیوں کے انٹرویو کیے گئے اور ان میں سے نصف سے زائد نے کہا کہ انہیں بدسلوکی یا تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار کوئنٹن سمرویل کا کہنا ہے کہ افغان حکومت نے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس دعوے میں مبالغہ آرائی سے کام لیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ مشن برائے افغانستان’اوناما‘ کی رپورٹ میں قومی پولیس، افغان انٹیلیجنس سروس اور مقامی پولیس کے زیر انتظام حراستی مراکز میں قیدیوں پر توجہ مرکوز رکھی گئی تھی۔

رپورٹ میں تشدد اور بدسلوکی کے چودہ مختلف طریقوں کی نشاندہی کی گئی۔ اس میں مار پیٹ، جان سے مار دینے کی دھمکی اور جنسی بدسلوکی کے طریقے شامل ہیں۔

بعض قیدیوں کو برقی جھٹکے دیے گئے تاکہ ان سے اعتراف جرم یا معلومات حاصل کی جا سکیں۔

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پولیس کے حراستی مراکز میں تشدد کے واقعات میں پینتیس سے تینتالیس فیصد تک اضافہ ہوا جبکہ افغان انٹیلیجنس سروس کے زیر انتظام مراکز میں چھیالیس سے چونتیس فیصد تک کمی آئی۔

اقوام متحدہ کے اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کی گذ شتہ سال کی رپورٹ میں دی جانے والی چند تجاویز جس میں تربیت اور معائنہ شامل ہے پر حکومت نے عمل درآمد کیا تاہم تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی میں بہت کم پیش رفت ہوئی۔

اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ مشن برائے افغانستان’اوناما‘ کے حقوق انسانی کے ڈائریکٹر جارجیٹ گینگن کا کہنا ہے کہ’ تشدد کے قصورواروں کا تسلسل سے احتساب نہیں کیا گیا اور اس میں چند ایک سے تفتیش کی گئی لیکن ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی‘۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ افغان صدر حامد کرزئی کا اصرار رہا ہے کہ قیدیوں کو اپنی تحویل میں رکھنا افغانستان کی خودمختاری کی ضمانت ہے اور انہوں نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر کوئی افغان ان کی قید میں ہے تو اسے افغان حکام کے حوالے کیا جائے۔

تاہم افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کے کمانڈرز کا کہنا ہے کہ جیلوں میں تشدد کی بلند شرح کی وجہ سے مستقبل قریب میں ایسا ممکن نہیں ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔