بلغاریہ میں تقریب کے دوران مسلمان رہنما پر حملہ

آخری وقت اشاعت:  اتوار 20 جنوری 2013 ,‭ 06:14 GMT 11:14 PST

ٹی وی پر نشر ہونے والی تقریب کے دوران احمد دگان پر حملہ کیا گیا

بلغاریہ میں ایک مسلح شخص نے ترکی نژاد افراد کی سیاسی جماعت کے سربراہ احمد دگان پر حملہ کیا۔

حملہ آور نے ٹی پر نشر کیے جانے والے ایک تقریب کے دوران احمد دگان کے سر کی طرف گیس کی پستول تان لی لیکن فائر ہونے سے پہلے محافظوں نے انہیں پکڑ کر زمین پر گرا دیا۔

یہ واقعہ سنیچر کو ملک کے دارلحکومت صوفیہ میں احمد دگان کی پارٹی کے کانگریس کے دوران پیش آیا۔

ملک کے وزیر داخلہ سیویتان سیویتنوف کے مطابق حملہ آور نے دو دفعہ فائر کرنے کی کوشش کی لیکن شاید پستول کام نہ کر سکی۔

احمد دگان جو مومنٹس فار رائٹس اینڈ فریڈم (ایم آر ایف) پارٹی کے سربراہ ہیں اس حملے میں محفوظ رہے اور انہیں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ آور کے پاس آتشی اسلحہ تھا لیکن بعد میں اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ ان کے پاس گیس کا پستول تھا جو سیلف ڈیفنس یا ذاتی دفاع کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ لیکن اگر اس گیس کے پستول کو قریب سے فائر کیا جائے تو اس سے شدید زخم آ سکتے ہیں۔

"بلغاریہ کا معاشرہ روایتی طور پر مختلف نسلوں اور مذاہب کے مابین رواداری، باہمی قبولیت اور عزت کے لیے جانا جاتا ہے اور ایک جمہوری ریاست میں ایسا اقدام نا قابل قبول ہے"

بلغاریہ کے صدر روزن پلیفنیلو

پولیس نے حملہ آور کو قابو کر لیا اور ان کے قبضے سے دو چاقو بھی برآمد کیے۔ حملہ آور کی عمر پیچیس سال ہے اور ان کا تعلق برگاس قصبے سے ہے۔

سیویتان سیویتنوف کا کہنا تھا کہ حملہ آور کا رکارڈ اچھا نہیں تھا اور وہ نشہ آور ادویات رکھنے، ڈاکے ڈالنے اور افراتفری پھیلانے کے جرائم میں ملوث رہا تھا۔

آذاد خیال ایم آر ایف پارٹی بلغاریہ میں ترکی نژاد اور دوسرے مسملمانوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ ملک میں ترک اور دوسرے مسلمانوں کی آبادی 12 فیصد ہے جو تقریباً سات ملین تک بنتی ہے۔

احمد دگان جن کی عمر 58 برس ہے، تقریباً 25 سال سے ایم آر ایف پارٹی کی قیادت کر رہے ہیں۔ ان پر حملے کے بعد جب وہ دوبارہ کانگرس میں آئے تو حاضرین نے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا۔

اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے ملک کے صدر روزن پلیفنیلو نے کہا کہ’بلغاریہ کا معاشرہ روایتی طور پر مختلف نسلوں اور مذاہب کے مابین رواداری، باہمی قبولیت اور عزت کے لیے جانا جاتا ہے اور ایک جمہوری ریاست میں ایسا اقدام نا قابل قبول ہے۔‘

بلغاریہ میں سیاستدانوں پر حملے شاذ ونادر ہی ہوتے ہیں لیکن 1996 میں ملک کے سابق وزیر اعظم اندری لیوکانوف کو ان کے گھر کے قریب مردہ پایا گیا تھا۔ انہیں گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔