اسرائیل سیاست کا دائیں بازو کی طرف جھکاؤ

آخری وقت اشاعت:  اتوار 20 جنوری 2013 ,‭ 14:41 GMT 19:41 PST
بینیامن نیتن یاہو

بینیامن نیتن یاہو کے اقتدار میں واپسی کے زیادہ امکانات ہیں

اسرائیل میں منگل کو عام انتخابات کےلیے ووٹنگ ہونے والی ہیں جس میں بنیامن نیتن یاہو کےاقتدار میں واپسی کےامکانات روشن ہیں اور ملک میں دائیں بازوں کی سیاست مزید زور پکڑ رہی ہے۔

عوامی جائزوں کے مطابق وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کی جماعت والا اتحاد آسانی سے دوبارہ اقتدار میں واپس آ جائے گا۔۔ حالانکہ انہیں بعض سیاسی جماعتوں سے انتخابی مہم کے دوران سخت مقابلے کا سامنا ہے اور ان میں سے ایک سیاسی جماعت ہے’جوئش ہوم پارٹی‘ جس کے امیدوار نفتالی بینیٹ نے اسرائیل کے ’ غیر دلچسپ‘ انتخابات میں جان ڈال دی ہے۔

یروشلم میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار وائر ڈیوس کا کہنا ہے کہ قومی اور مذہبی جماعتوں کی جانب سے دباؤ کے سبب وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کا جھکا‎ؤ مزید دائیں بازوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ چاہے آپ دائیں بازوں کے امیدوار اور ایک وقت میں بینامن نیتن یاہو کے چیف آف سٹاف رہ چکے نفتالی بینیٹ کی حمایت کریں یا نہ کریں، آپ ان کے متنازعہ بیانات سے اتفاق رکھیں یا نہ رکھیں لیکن آپ یہ ضرو کہیں گے کہ ’شکر ہے نفتالی بینیٹ ان انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔‘

وہ امیر ہیں، جوان ہیں اور ان عام انتخابات میں بہت سرگرمی سے اپنی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

دائیں بازو کے حمایتی انہیں بے حد پیار کرتے ہیں اور اپنے بے باک نظریے اور بیانات کی وجہ سے انہوں نے حکمراں جماعت لیخود پارٹی کے ووٹروں کو اپنی طرف راغب کیا ہے۔

چالیس سالہ نفتالی بینیٹ ایک بے حد کامیاب تاجر ہیں جنہوں نے انٹرنیٹ سیکورٹی کے کاروبار سے دولت اور شہرت پائی ہے۔اپنی ذاتی کامیابی کے سبب انتخابی مہم میں وہ نوجوان اسرائیلی شہریوں کو متاثر کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

وہ اسرائیل کی ایلیٹ فوج کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ فوج چھوڑنے کے بعد انہوں نے انٹرنیٹ کی سیکورٹی سے متعلق ایک کمپنی کھولی جسے انہوں اطلاعات کے مطابق سنہ دوہزار چھ میں امریکہ کو ایک سو پیتالیس ملین ڈالر میں فروخت کردیا تھا۔

راسخ العقیدہ یہودی نفتالی بینیٹ ایک وقت میں بینیامن نیتن یاہو کی فوج کے سربراہ رہ چکے لیکن ان انتخابات وہ اپنے سابق قائد کو کڑا مقابلہ دے رہے ہیں۔

مسٹر بینیٹ انتخابی مہم میں سرگرم ہیں، متنازعہ مسائل پر خاموشی اختیار نہیں کرتے ہیں اور وہ ساری باتیں کہہ ڈالتے ہیں جو کوئی دائیں بازوں کی جماعت بولنے گریز کریں گے۔

نفتالی بینیٹ

نفتالی بینیٹ ایک بے باک نذریعہ رکھنے والے دائیں بازوں کے سیاست داں ہیں

اسرائیل کی مختلف جماعتوں کی بیرونی صحافیوں کے سامنے ایک حالیہ پریس کانفرنس میں بی بی سی کے نامہ نگار نے ان سے پوچھا کیا وہ مانتے ہیں کہ غرب اردن میں فلیسطینی ریاست کا قیام ہونا چاہیے یا نہیں اور وہ لاکھوں فلیسطینیوں کی قومی امنگوں کو کیسے پورا کریں گے۔

ان کا جواب تھا ’یہ ساری جماعتیں جو یہاں موجود ہیں ان میں سے میں اکیلا غرب اردن میں فلیسطینی ریاست کے قیام کے خلاف ہوں۔‘

حالانکہ وہ اس بارے میں کھل کر بات نہیں کرتے ہیں کہ اگر وہ اقتدار سنبھالتے ہیں تو وہ فلیسطین کے مسئلے کو کیسے نمٹائیں گے۔

حالانکہ بینامن نیتن یاہو اس سے قبل ایک بیان میں یہ واضح طور پر کہ چکے ہیں کہ اگر وہ اقتدار سنبھالتے ہیں تو غرب اردن میں بنائی گئی یہودی کالونی کو وہ نہیں ہٹائیں گے۔

انہوں نے اسرائیلی اخبار ماروی کو دیئے ایک انٹریو میں کہا تھا کہ ' جب یہودیوں بستیوں کو بلڈوزر سے ہٹایا گیا تھا وہ دن ہمارے ماضی کا حصہ ہے نہ کہ ہمارے مستقبل کا۔

مسٹر نیتن یاہو ماضی میں یہ کہ چکے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ ساتھ انیس سو اڑتالیس کے جنگ بندی سے متعلق معاہدے یعنی ’گرین لائن‘ معاہدے کے تحت ایک آزاد فلیسطین ریاست کا قیام ہو لیکن ان کے اس وعدے کے بعد اسرائیل کے اندر اور باہر انہیں مخالفت کا سامنا رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے بہت سارے حمایتی مسٹر بینیٹ کی حمایت میں چلےگئے ہیں۔

نفتالی بینیٹ کی جماعت انتخابات میں اکثریت حاصل نہیں کرے۔ یہ بات واضح ہے کہ بینامن نیتن یاہو کی لخود پارٹی والے اتحاد کو ہی اکثریت حاصل ہوگی۔

عوامی جائزوں کے مطابق بینیامن نیتن یاہو کی سیٹوں میں کمي آئی ہے۔ ایک سو بیس ممبران پر مشتمل اسرائیلی پارلیمنٹ میں ان کی بتیس سیٹیں بتائی گئی ہیں جس کے بعد مسٹر نیتن یاہو نے اپنا جھکاؤ دائیں بازوں کی جانب مزید بڑھایا ہے۔

اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ نیتن یاہو نے مقبوضہ فلیسطین میں مزید یہودی بستیاں بسانے کی بات کہی ہے۔

نیتین یاہو کی جانب سے اس طرح کے بیان کے بعد عالمی برادری میں ان کی تنقید ہوئی ہے یہاں تک ان کے سب سے قریبی اتحادی امریکہ نے اس بیان کے لیے ان کی تنقید کی ہے۔

سیاسی مبصر پروفیسر ڈیوڈ نیومن کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم بینیامن نیتن یاہو کا دائیں بازوں کی سوچ و فکر کی طرف جھکاؤ سے بیرونی ممالک میں رہنے والے اسرائیلوں کو نقصان ہوگا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔