’مختار نے الجزائر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 20 جنوری 2013 ,‭ 17:59 GMT 22:59 PST

مختار گزشتہ سال تک مالی سے تعلق رکھنے والی شدت پسند تنظیم القاعدہ ان اسلامک مغرب کے کمانڈر تھے

موریطانیہ کی نیوز ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک ویڈیو میں الجزائر کے شدت پسند رہنما مختار بلمختار نے امیناس گیس فیلڈ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

صحارا میڈیا پر چلنے والی اس ویڈیو میں مختار نے مطالبہ کیا ہے کہ مالی میں غیر ملکی فوج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔ انہوں نے القاعدہ سے تعلق رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ الجزائر کا کہنا ہے کہ یہ شدت پسند مختار بلمختار نامی شدت پسند کمانڈر سے احکامات لے رہے تھے۔ مختار گزشتہ سال تک مالی سے تعلق رکھنے والی شدت پسند تنظیم اے کیو آئی ایم (القاعدہ ان اسلامک مغرب) کے کمانڈر تھے۔

صحارا میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو پچھلے ہفتے تیار کی گئی تھی جب امیناس گیس فیلڈ کا محاصرہ جاری تھا۔

دوسری جانب امیناس گیس فیلڈ پر محاصرہ ختم ہونے اور تئیس یرغمالیوں کی ہلاکت کے بعدالجزائر کے وزیر مواصلات کا کہنا ہے کہ کافی غیر ملکی لاپتہ ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گیس فیلڈ پر دہشت گردی کی کارروائی کے بعد امیناس کے رہائشیوں کو بے روزگار ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

اس سے قبل الجزائر کے شمالی صحرا میں واقع گیس فیلڈ پر چار دن سے قابض شدت پسندوں کے خلاف الجزائری فوج کی کارروائی سنیچر کو مکمل ہو گئی تھی۔

حکام کے مطابق کارروائی میں تئیس یرغمالی اور بتیس شدت پسند ہلاک ہوئے جبکہ کئی غیر ملکی ملازمین اب بھی لاپتہ ہیں۔

الجزائر کی سرکاری خبر رساں ادارے اے پی ایس نے ملک کے وزارت داخلہ کے حوالے سے بتایا کہ گیس پلانٹ میں موجود 685 الجزائری اور 132 میں سے 107 غیر ملکی کارکنوں کو رہا کیا گیا ہے۔

سنیچر کو ہونے والی فیصلہ کن کارروائی میں گیارہ شدت پسند ہلاک ہوگئے تاہم کارروائی کے دوران وہ ساتوں غیرملکی بھی مارے گئے ہیں جنہیں شدت پسندوں نے یرغمال بنایا ہوا تھا۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اتوار کو تصدیق کی کہ اس واقعے میں تین برطانوی شہری ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ مزید تین شہریوں کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔

اس کے علاوہ ناروے کے پانچ شہری اور دس جاپانی شہری یا تو ہلاک ہوگئے ہیں یا لاپتہ ہیں۔ وہیں الجزائر کا کہنا ہےکہ اس کی فوج نے یرغمال بنانے والے بتیس افراد کو ہلاک کردیا ہے۔

صدر براک اوباما نے سنیچر کو کہا کہ ’یہ حملہ القاعدہ اور شمالی افریقہ میں سرگرم شدت پسند گروپوں سے لاحق خطرہ کی یاد دہانی ہے۔‘

براک اوباما نے کہا کہ ان کا ملک علاقے سے دہشت گردی کی لعنت ختم کرنے کے لیے اپنے اتحادیوں کے ساتھ کام جاری رکھے گا۔

الجزائر کی سرکاری خبر رساں ادارے اے پی ایس نے ملک کے وزارت داخلہ کے حوالے سے بتایا کہ گیس پلانٹ میں موجود 685 الجزائری اور 132 میں سے 107 غیر ملکی کارکنوں کو رہا کیا گیا ہے۔

اس آپریشن کے آخری اور فیصلہ کن مرحلے میں فوجیوں نے اس ورکشاپ کوگھیرا جہاں شدت پسندوں نے کچھ غیرملکیوں کو یرغمال بنایا ہوا تھا۔

راکٹ لانچروں اور مشین گنوں سے لیس شدت پسندوں نے مورطانیہ کی خبر رساں ایجنسی کو بتایا تھا کہ ان کے پاس سات یرغمالی تھے۔

الجزائر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی ایس کے مطابق فوجی حکام نے کہا ہے کہ ساتوں یرغمالیوں کو شدت پسندوں نے ہی ہلاک کیا جبکہ شدت پسند فوجیوں کی فائرنگ کا نشانہ بنے۔ تاہم اس خبر کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

ان ہلاکتوں سے قبل دو دن کے آپریشن میں بارہ افراد مارے گئے جن میں الجزائری اور غیر ملکی باشندے دونوں شامل ہیں۔

بعض یرغمالیوں کی قومی شناخت ابھی بھی واضح نہیں ہوئی ہے۔

القاعدہ سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے بدھ کو ’ان امیناس‘ گیس فیلڈ پر قبضہ کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی الجزائر کے ہمسایہ ملک مالی میں فرانسیسی مداخلت اور مغرب میں القاعدہ کے خلاف کارروائیوں کا ردعمل ہے۔

الجزائر کی فوج نے جمعرات سے گیس فیلڈ پر موجودد سینکڑوں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے آپریشن شروع کیا تھا اور اس دوران پانچ سو تہتر الجزائری شہریوں جبکہ ایک سو بتیس غیر ملکیوں میں سے سو کے قریب افراد کو بازیاب کروایا جا سکا تھا۔

ناروے کی آئل کمپنی سٹیٹ آئل نے جو برٹش پیٹرولیم اور الجزائر کی سرکاری تیل کمپنی سے مل کر یہ کارخانہ چلاتی ہے، سنیچر کی صبح بتایا تھا کہ اس کے مزید دو ملازمین محفوظ مقام پر پہنچے ہیں جبکہ چھ تاحال لاپتہ ہیں۔

فرانسیسی وزیرِ دفاع نے بھی سنیچر کو بتایا تھا کہ اب شدت پسندوں کے قبضے میں کوئی فرانسیسی شہری موجود نہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔