دمشق میں روٹی کے لیے لمبی قطاریں

آخری وقت اشاعت:  پير 21 جنوری 2013 ,‭ 17:08 GMT 22:08 PST
شام کے مہاجر کیمپ میں ایک بچہ

شام کے دارالحکومت دمشق میں گاڑی میں سفر کرتے ہوئے وقت کے نشانات دکھائی دیتے ہیں۔

شہر میں ڈپ ڈپ کیفے، موکا کیفے اور کافی پینے کے کئی مقامات ہیں۔ لگژری شورومز ہیں جن کے شیشے والی کھڑکیوں میں موسم کے حساب سے فروخت ہونے والے ملبوسات نمائش کے لیے رکھے ہوئے ہیں۔

اگر آپ میں ہمت ہے تو آپ ابھی بھی ان کیفے میں پڑی کرسیوں پر بیٹھ کر اطلالوی طرز کی کافی پی سکتے ہیں اور ان خوبصورت پارکوں میں بیٹھ کر یہاں کی روزمرہ کی زندگی کا نظارہ دیکھ سکتے ہیں جہاں نوجوان لڑکے لڑکیاں بیٹھ کر رومانی انداز میں باتیں کر رہے ہیں اور چمیلی کے پھولوں کی خوشبو فزا میں پھیلی ہوئی ہے۔

یہ خوبصورت، باوقار دمشق ہے یعنی ماضی کا دمشق۔ یہ وہ شام ہے جو دو برس قبل تک اس بات پر فخر کرتا تھا کہ سارے عرب ممالک میں وہ ایک ایسا ملک ہے جس کے پاس ضرورت کے مطابق غذائی اشیاء اور تیل موجود ہے۔

دمشق میں ایک کمپنی میں کام کرنے والی ایک شامی خاتون کہتی ہیں ’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایسے دن بھی دیکھنے پڑیں گے۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ہم ہائی انرجی بسکٹ تقسیم کرنے کے بارے میں بات کر رہے ہوں گے‘۔

واضح رہے کہ یہ بسکٹ ان ممالک کی عوام کو فراہم کیے جاتے ہیں جہاں جنگ اور دیگر حالات کے سبب لوگ خوراک کی کمی کا شکار ہو رہے ہوں۔

شام میں جاری لڑائی کے اثرات اب دمشق جیسے بڑے شہر میں بھی اثر انداز ہونے لگے ہیں۔

دمشق میں پیٹرول کی قطار میں لگے لوگ

دمشق اس بات پر فخر کرتا تھا کہ اس کے پاس کافی غزائی اشیاء اور تیل ہے

دمشق میں ابھی بھی ایسے مقامات ہیں جہاں سرکاری ملازم صبح اٹھ کر پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے دفتر جاتے ہیں، بچے سکول میں امتحان دیتے ہیں لیکن ایسے مقامات یا جنہیں ’دمشق ببل‘ کہا جاتا ہے دھیرے دھیرے تنگ ہو رہے ہیں۔

دمشق کے اس دورے کے دوران میں نے دیکھا کہ پیٹرول پمپ پر لوگ پیٹرول کے لیے لمبی قطاریں لگائے ہوئے ہیں اور شہری سرکاری بیکریوں سے روٹی کی فروخت کے لیے انتظار میں گھنٹوں لمبی قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں اور روٹی خریدتے ہی اپنے گھر کی طرف بھاگتے ہیں اور بعض لوگ اپنی کار کی ڈکی کو ان روٹیوں سے بھرلیتے ہیں۔

سرکاری بیکریوں میں دس روٹیوں کی قیمت آٹھ روپے ہے اور اس کے برعکس پرائیوٹ بیکریوں میں روٹی کی قیمت زیادہ ہے۔

ایک مغربی امدادی تنظیم کے کارکن نے مجھے بتایا کہ یہاں کوئی بھوکا نہیں مر رہا ہے لیکن شام میں فاقہ کشی کی صورتحال سے متعلق بات چیت شروع ہوگئی ہے۔

شام کی مدد کے لیے کون آگے آئے گا؟ مغربی ممالک نے اسے الک تھلگ کر دیا ہے اور اس پر کئی طرح کی پابندیاں عائد کر دی ہیں لیکن شام خود مغربی ممالک کی جانب سے آنے والی امداد کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے۔

شامی عوام کو اب تک سب سے بڑی مدد اپنے ہی افراد سے حاصل ہوئی ہے۔ بڑے خاندان اب ایک ساتھ ایک گھر میں رہ رہے ہیں جبکہ کسی کسی گھر میں تیس سے پینتیس افراد ایک ساتھ رہ رہے ہیں۔

روٹی

دمشق میں سرکاری بیکریوں پر روٹی سستے داموں پر ملتی ہے

لوگ اپنے پڑوسیوں کی مدد کے لیے اپنے دل اور دروازے کھول رہے ہیں اور یہ کبھی ان افراد کی بھی مدد کرتے ہیں جو مضافاتی علاقوں میں جاری حکومتی افواج اور باغیوں کے درمیان جنگ کی وجہ سے اپنا گھر چھوڑ دیتے ہیں۔

شام میں اب جیسے جیسے جنگ کی مدت بڑھ رہی ہے، لوگوں کی بچت ختم ہو رہی ہے اور مدد کا یہ جزبہ بھی کمزور پڑتا نظر آ رہا ہے۔

شام جیسے منقسم ملک میں ہمدردی کو بھی شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ جو خاندان بے گھر افراد کو رہنے کی جگہ دیتے ہیں ان کے گھر خفیہ ایجنسیاں پوچھ گچھ کے لیے آ سکتی ہیں۔

ایک خاتون جو اضافی کمائی کے لیے اپنے گھر کو کرائے پر دیتی ہیں نے مجھے بتایا ’ہم اپنے کمرے بھی کرائے پر نہیں دے سکتے ہیں‘۔

حالات یہ ہیں کہ اب شام کی مغرور حکومت نے بھی یہ اعتراف کرنا شروع کر دیا ہے کہ حالات خراب ہو رہے ہیں۔

ایسے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ پڑوسی ممالک میں پناہ لینے والے شامی مہاجروں کی تعداد ایک ملین تک پہنچ جائے گی۔ شام میں دو ملین سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں اور یہ لوگ شام میں زیر تعمیر یا اجڑی ہوئی عمارتوں میں پناہ لے رہے ہیں۔

شامی عوام کے لیے گزشتہ بیس سالوں میں سب سے سرد موسم سے نمٹنا مشکل ہوگیا ہے۔

جب میں لبنان کی سرحد پر واقع مہاجروں کے کیمپوں میں گئی تو وہاں بے حد سردی میں بچے پاجامہ اور چپل پہنے ہوئے تھے اور سردی سے ٹھٹہر رہے تھے۔

اقوام متحدہ اور دیگر امدادی تنظیمیں کوشش کر رہی ہیں سیاست کو بھول کر ان لوگوں کی مدد کی جائے۔

ایک امدادی کارکن نے مجھے بتایا کہ فی الوقت بیرونی ممالک کی جانب سے شام کے لیے جو مدد کا وعدہ کیا گیا وہ ’صفر‘ کے برابر ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔