کابل:ٹریفک پولیس کے دفتر پر’خودکش‘ حملے

آخری وقت اشاعت:  پير 21 جنوری 2013 ,‭ 06:05 GMT 11:05 PST

طالبان نے میڈیا اداروں کو ایک ایس ایم ایس پیغام کے ذریعے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی

افغان حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کابل کے مغربی علاقے میں واقع ٹریفک پولیس کے ہیڈکوارٹر پر خودکش حملے میں دو حملہ آور ہلاک اور چار پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق ایک کار بم دھماکے کے بعد کم از کم تین خودکش حملہ آور فائرنگ کرتے ہوئے علی الصبح ٹریفک پولیس ہیڈ کوارٹر کی تقربیاً خالی عمارت میں داخل ہو گئے۔

کابل کے پولیس کے سربراہ جنرل ایوب سالنگی نے کہا کہ دو حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے جبکہ تیسرا حملہ آور اب بھی مقابلہ کر رہا ہے۔

اس حملے میں چار پولیس اہلکار زخمی ہو گئے جبکہ خدشہ ہے کہ عام لوگ بھی کار بم دھماکے کا نشانہ بنے ہوں گے۔

حملے کا نشانہ بننے والی عمارت کے اندر اور قرب و جوار سے زوردار دھماکوں اور شدید فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

پولیس حکام نے کابل میں بی بی سی کے نمائندے بلال سروری کو بتایا کہ پیر کو علی الصبح ہونے والے حملے میں کم از کم ایک شدت پسند نے ٹریفک پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر خود کو دھماکے سے اڑایا۔

مقامی لوگوں کے مطابق دو زور دار دھماکے ہوئے جس سے کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور جس کے بعد وقفے سے فائرنگ ہوتی رہی جو جاری رہی۔

ہمارے نمائندے کے مطابق سکیورٹی کے لحاظ سے اہم مقام پر واقع محکمۂ ٹریفک کی چار منزلہ عمارت کو نشانہ بنانے کا مقصد یہ ہوسکتا ہے کہ حلمہ آور اسے ایک بڑے حملے کے لیے چوکی کے طور پر استعمال کر سکیں کیونکہ اس عمارت کے قریب پولیس کے کئی اہم دستے موجود ہیں اور یہ ملک کی پارلیمان کے بھی نزدیک ہے۔

افغان طالبان نے میڈیا اداروں کو ایک ایس ایم ایس پیغام کے ذریعے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

طالبان نے حال ہی میں کابل میں کئی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ گذشتہ ہفتے بھی شہر کے مرکز پر ایک حملے میں افغان جاسوسی ادارے کے لیے کام کرنے والے چار اہلکاروں کو ہلاک کیا گیا تھا جس کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی۔

افغانستان میں حکومتی تنصیبات اور عمارتوں پر شدت پسندوں کے حملے لگاتار جاری ہیں۔ ان حملوں کی وجہ سے یہ سوال بھی اٹھتا رہا ہے کہ دو ہزار چودہ میں غیرملکی افواج کے انخلاء کے بعد افغان سکیورٹی فورسز حالات سے کیسے نمٹ پائیں گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔