شہزادہ ہیری کا بیان بزدلانہ ہے: طالبان

آخری وقت اشاعت:  منگل 22 جنوری 2013 ,‭ 14:13 GMT 19:13 PST

شہزادہ ہیری فغانستان کے صوبہ ہلمند میں برطانوی فوجی اڈے کیمپ بیسٹن میں تعینات تھے

برطانیہ کے شہزادہ ہیری کا کہنا ہے کہ افغانستان میں تعیناتی کے دوران انہوں نے طالبان مزاحمت کاروں کو ہلاک کرنے کے لیے ان پر فائرنگ کی تھی۔

دوسری جانب افغان طالبان نے شہزادہ ہیری کے بیان کو بزدلانہ قرار دیا ہے۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے کہا کہ شہزادہ ہیری کا یہ کہنا کہ جنگجوؤں کو ہلاک کرنا ویڈیو گیم کھیلنے کے مترادف تھا تذلیل آمیز ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ لگتا ہے افغانستان میں تعیناتی کے دوران شہزادہ ہیری کو ذہنی لاحق بیماری ہو گئی ہے۔

اس کے علاوہ برطانیہ میں امن کے لیے مہم چلانے والوں نے بھی شہزادہ ہیری کے بیان پر تنقید کی ہے۔

برطانوی شہزادوں کی فہرست میں تیسرے نمبر پر پرنس ہیری حال ہی میں افغانستان میں تعیناتی کی پانچ ماہ کی مدت پوری کر کے پیر کو واپس لوٹے ہیں۔

افغانستان میں تعیناتی کے دوران ان کا اس شرط پر انٹرویو کرنے کی اجازت دی گئی تھی کہ یہ ان کی وطن واپسی کے بعد نشر کیا جائے گا۔

شہزادہ ہیری نے افغانستان میں جنگی ہیلی کاپٹر اپاچی کے معاون پائلٹ، توپچی کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیں۔

طالبان پر فائرنگ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا’ اگر وہاں لوگ ہمارے جوانوں سے کچھ غلط کرنے کی کوشش کریں تو ہم انہیں کھیل سے باہر نکال دیں گے‘۔

شہزاد ہیری نے انٹرویو کے دوران افغانستان میں اپنے کردار کے علاوہ دیگر معاملات پر بات کی۔ اس میں لاس ویگاس کے ایک ہوٹل کے کمرے میں برہنہ تصویر سامنے آنے کا واقعہ ہے اور اس سے انہوں نے اپنے’خاندان کو افسردہ‘ کیا‘۔

انٹرویو میں ایک صحافی نے افغانستان میں ان کے کردار کے بارے میں پوچھا کہ آپ کے ہاتھ میں ٹریگر ہوتا ہے اور اگر کہا جاتا تو آپ فائر کریں گے، مان لینے کے طور پر ایسا کریں گے اور دشمن کو مار دیں گے؟

اس پر شہزادہ ہیری نے کہا کہ’ بلکل بہت سارے لوگ کرتے ہیں، یہاں پر سکواڈرن ہے، ہر کوئی طے شدہ مقدار میں فائر کرتے ہیں، غالباً گزشتہ سال سے کچھ زیادہ، کسی حد تک یقینی، لیکن صرف یہ ہی صرف راستہ ہے جس توازن قائم ہوتا ہے، خاص طور پر موسم، بہرحال جو کوئی بھی وجوہات ہیں، مجھے اس کے بارے میں نہیں معلوم‘۔

’ہم فائر کرتے ہیں جب ہمیں کوئی زندگی لینا یا کوئی زندگی بچانا ہوتی ہے لیکن بنیادی طور پر بھی اس چیز سے زیادہ ہم مزاحمت کرنے والے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ زخمی فوجیوں کو بچانا مشن کی ایک مرکزی ذمہ داری ہے۔

’ہماری یہاں ڈیوٹی ہے کہ زمین پر موجود جوان محفوظ ہیں، اور اب اس کا مطلب کہ ان پر فائرنگ کرنے والوں پر ہم فائرنگ کریں تو ہم یہ کریں گے۔‘

شہزاد ہیری شاہی خاندان کے پہلے رکن ہیں جنہوں نے جنگی کارروائی میں حصہ لیا، اس سے پہلے ان کے انکل ڈیوک آف یارک نے فاک لینڈ جنگ میں حصہ لیا تھا۔

شہزادہ ہیری کو فوج میں کیپٹن ویلز کے نام سے جانا جاتا ہے اور وہ دوسری مرتبہ ستمبر میں افغانستان ڈیوٹی پر آئے تھے۔

اس سے پہلے وہ سال دو ہزار آٹھ میں جب افغانستان آئے تھے تو دس ہفتوں کے بعد ہی اپنی تعیناتی مختصر کر کے واپس جانا پڑا تھا کیونکہ میڈیا میں ان کی افغانستان میں تعیناتی کی خبر افشاء ہو گئی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔