اسرائیل: حکومت سازی کے لیے جوڑ توڑ کا آغاز

آخری وقت اشاعت:  بدھ 23 جنوری 2013 ,‭ 02:24 GMT 07:24 PST

اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کے اتحاد کی جانب سے معمولی اکثریت سے عام انتخابات جیتنے کے بعد اسرائیل میں حکومت سازی کے لیے طویل جوڑ توڑ کے سلسلے کا آغاز ہو گیا ہے۔

امید کی جا رہی ہے کہ صدر شمعوں پیریز وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کو حکومت سازی کی دعوت دیں گے۔

بنیامن نتن یاہو کے لیکود اور بیتِ نو جماعتوں کے اتحاد نے اپنی اکثریت کی ایک تہائی نشستیں کھو دی ہیں مگر یہ اتحاد اب بھی اکتیس نشستوں کے ساتھ کنیسٹ میں سب سے بڑا گروہ ہے۔

بنیامن نتن یاہو نے نئی جماعت یاش آتد کے ساتھ کام کرنے کی پیشکش کی ہے جس نے مبصرین کو حیران کرتے ہوئے انیس نشستیں حاصل کیں ہیں۔

یاش آتد جماعت کے سربراہ مشہور ٹی وی شخصیت یائر لاپِد ہیں مگر انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایک قانون جس کے تحت روایت پسند یہودی مدرسوں کے طلبا لازمی فوجی سروس کو موخر کر سکیں گے۔

دوسری جانب موجودہ مخلوط حکومت میں شامل مذہبی جماعتوں نے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے معمولی اکثریت سے عام انتخابات جیتنے کے بعد عہد کیا ہے کہ وہ ایک وسیع تر حمکران اتحاد بنائیں گے۔

اسرائیل میں ہونے والے عام انتحابات میں ووٹنگ کے بعد ایگزٹ پولز کے مطابق وزیراعظم بنیامین کے حکمران اتحاد کی پارلیمان میں اکتیس سیٹیں ہونگی جو اس وقت بیالیس ہیں۔

نتن یاہو کی اپنی اور ان کی اتحادی جماعت لیکود- یسرائیل بیتِ نو نے ایک نئی معتدل جماعت ’یاش آتد‘ کے مقابلے میں اپنی مقبولیت کھوئی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ حمتی نتائج میں اس کی دوسری پوزیشن ہو گی۔

وزیراعظم نین یاہو نے کہا ہے ان کی نئی حکومت کا اولین چیلنج ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے اور وہ ایک وسیع تر حکمران اتحاد کے لیے دوسری جماعتوں کے پاس جائیں گے۔

انتہائی دائیں بازو کی مذہبی قوم پرست جماعت ’بیت یہودی‘کو بھی نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں ہیں اور توقع ہے کہ نتن یاہو اس جماعت کو حکمران اتحاد میں شامل کرنا چاہیں گے۔

اسرائیل میں منگل کو عام انتخابات کے موقع پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا اور اس کی وجہ سے لیبر اور معتدل جماعتوں کو فائدہ پہنچا۔

انتہائی دائیں بازو کی مذہبی قوم پرست جماعت ’بیت یہودی‘کو بھی نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں ہیں۔ اس جماعت کی سربراہی ایک امیر اسرائیل کارباری شخصیت نفتالی بینیٹ کر رہے ہیں جو کہ نتن یاہو کہ سابق چیف آف سٹاف رہ چکے ہیں۔

ایک سو بیس ممبران پر مشتمل اسرائیلی پارلیمان ’کنیسا‘ کے لیے بتیس جماعتوں نے انتخابات میں حصہ لیا اور جماعتوں کو سیٹ حاصل کرنے کے لیے کم از کم ووٹوں کا دو فیصد حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔

اس وقت پارلیمان میں وزیراعظم نتین یاہو کی جماعت لیکود اور سخت گیر قوم پرست جماعت یسرائیل بیتِ نو کے ساتھ بیالیس نشستیں ہیں۔

نتائج کے ابتدائی جائزوں کے مطابق لیکود- یسرائیل بیتِ نو اتحاد اکتیس نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا جبکہ ذہبی قوم پرست جماعت ’بیت یہودی‘ بارہ سیٹیں حاصل کر سکے گی۔

ٹی وی کی معروف شخصیت یائیر لاپِد کی قیادت میں نئی سیکولر جماعت ’یاش آتِد‘ اٹھارہ سے انیس سیٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی اور ماہرین نئی جماعت کے لیے اتنی بڑی کامیابی حیران کن ہے۔

یائیر لاپِد کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک نتین یاہو کے اتحاد میں شامل نہیں ہونگے جب تک وہ فلسطین کے ساتھ امن کی بات کو آگے بڑھانے کا وعدہ نہیں کرتے۔

یاش آتِد جماعت کے ایک رہنما یاکو پیری کے مطابق ’ہماری سرخ لائنز ہیں اور ہم ان کو عبور نہیں کریں گے چاہیے یہ ہمیں حزب اختلاف میں بیٹھنے پر مجبور کریں‘۔

ابتدائی اندازوں کے مطابق لیبر پارٹی جس کے پاس ابھی پارلیمان میں صرف سات سیٹیں ہیں وہ سترہ کے قریب نشستوں پر کامیابی حاصل کر لے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔