بحرین میں شہزادی پر تشدد کے الزمات

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 24 جنوری 2013 ,‭ 02:16 GMT 07:16 PST

اس کیس کی سماعت سات فروری تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

بحرین میں ایک شہزادی کو جمہوریت کے حامی کارکنوں پر تشدد کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔

نورا بنت ابراہیم الخلیفہ بحرین کے انسداد منشیات یونٹ میں کام کرتی ہیں۔

انتیس سالہ نورا بنت ابراہیم اور ایک دوسرے افسر پر جمہوریت کے حامی تین کارکنوں پر تشدد کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ بحرین کی حکومت کے خلاف فروری دو ہزار گیارہ سے شروع ہونے والوں مظاہروں میں کم سے کم ساٹھ افراد ہلاک اور ہزاروں افراد زخمی ہوئے اور اب بھی سینکڑوں کی تعداد میں زیر حراست ہیں۔

شہزادی نورا بنت ابراہیم اتوار اور پیر کو عدالت میں پیش ہوئیں اور ان الزامات کی تردید کی ہے۔

ایک کیس میں ان پر دو ڈاکٹروں پر تشدد ہے اور ایک دوسرے کیس میں ایک اکیس سالہ خاتون آیاد ال قرمزی پر تشدد کا الزام ہے۔

ال قرمزی کو مارچ دو ہزار گیارہ میں عوام کے سامنے حکمران شاہی خاندان کے خلاف شاعری پڑھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

ال قرمزی کے مطابق انہیں نو دن تک آنکھوں پر پٹی باندھ کر حراست میں رکھا گیا اور اس دوران انہیں تاروں سے مارا گیا اور جنسی تشدد کرنے کی دھمکی۔

ال قرمزی کے مطابق شہزادی نورا نے ان پر تشدد کیا تھا۔

ال قرمزی کے وکیل ریم خلف نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک بار ال قرمزی کو گردن کے قریب مارا جا رہا تھا تو اس دوران وہ نیچے گر گئیں اور ان کی آنکھوں سے پٹی ہٹ جانے پر انہوں نے شہزادی نورا کو پہچان لیا۔

ال قرمزی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے سامنے شاعری پڑھنے اور نورا کو عدالت میں لانے پر انہیں کوئی افسوس نہیں ہے اور یہاں تک کہ انہیں کالج سے نکال دیا گیا اور آن لائن دھمکیاں اور تذلیل کی جاتی ہے۔

اس کیس کی سماعت سات فروری تک ملتوی کر دی گئی ہے کیونکہ عدالت کے سامنے تین گواہ پیش نہیں ہو سکے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔