پولیس افسر کی تنقیدی ٹویٹ پر تنزلی

آخری وقت اشاعت:  بدھ 23 جنوری 2013 ,‭ 10:20 GMT 15:20 PST

ریو ڈی جنیئرو پولیس کی سربراہ مارتھا روچا کے نزدیک پنہو کا یہ اقدام کسی پولیس افسر کے شایانِ شان نہیں تھا

برازیل میں ایک پولیس انسپکٹر کو اپنے ماتحت کام کرنے والی خواتین کے بارے میں تنقیدی ٹویٹس کرنے پر عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

پولیس انسپکٹر پیدرو پاؤلو پنہو نے ٹویٹ کی تھی کہ ان کے ماتحت ریو ڈی جنیرو کے پولیس سٹیشن میں کام کرنے والی چودہ خواتین میں سے ’صرف ایک ہیں جن میں پولیس کے لیے کام کرنے کی صلاحیت، ہمت اور حوصلہ ہے۔‘

ریو ڈی جنیرو پولیس کی سربراہ نے جو خود ایک خاتون ہیں، ان کی جگہ پر ایک خاتون پولیس افسر کو مقرر کر دیا ہے۔

پنہو نے اس بات پر کسی بھی ایسی خاتون سے معذرت کی ہے جن کو ان کی اس ٹویٹ سے دکھ پہنچا ہو یا ان کی ٹویٹ سے ان کی دل آزاری ہوئی ہو مگر ان کا اصرار تھا کہ ان کی ٹویٹ کو غلط طریقے سے سمجھا گیا ہے۔

انسپکٹر پنہو کا کہنا ہے کہ انہیں ایک خاتون پولیس افسر پر غصہ تھا جن کے حوالے سے ان کے پولیس سٹیشن میں ماضی میں بھی مسائل رہے ہیں۔

جب وہ خاتون پولیس افسر سوموار کو کام پر نہیں پہنچیں اور انہیں معلوم ہوا کہ وہ ایک اور جگہ سے ٹویٹس کر رہی ہیں تو اس پر انہوں نے یہ ٹویٹ کی۔

انسپکٹر پنہو نے برازیلین نیوز ویب سائٹ جی آئی کو بتایا کہ ’اس سارے معاملے پر مجھے بہت غصہ آیا اور میں نے بغیر کسی تخصیص کیے پبلک سروس پر رائے دینا شروع کی اور پولیس کے کام کی وضاحت دینا شروع کی کہ اس کام کے لیے صلاحیت، ہمت اور حوصلہ کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

انسپکٹر پنہو کی ٹویٹ

اور ایک یہ ہیں ان چودہ میں سے جس کا مقابلہ کوئی مرد نہیں کر سکتا جب ایک خاتون اپنے کام میں بہتر ہوتی ہے تو کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا مگر دوسری جانب۔۔۔۔۔۔

ریو ڈی جنیئرو پولیس کی سربراہ مارتھا روچا کے نزدیک پنہو کا یہ اقدام کسی پولیس افسر کے شایانِ شان نہیں تھا۔

ایک بیان میں مارتھا نے کہا کہ انسپکٹر پنہو کو اس لیے ہٹایا گیا کیونکہ ’انہیں اپنے ماتحت کام کرنے والے افراد کا انتظام سنبھالنے میں مشکلات پیش آ رہی تھیں۔‘

مارتھا نے کہا کہ پنہو کی جگہ پر انسپکٹر مونیق ویڈل کی تعیناتی کی حمایت کی اور کہا کہ ’وہ ایک متحرک خاتون پولیس افسر‘ ہیں۔

پنہو کا اسرار ہے کہ ان کے ساتھ نا انصافی کی گئی ہے کیونکہ انہوں نے اپنی ٹویٹس میں ایک خاتون پولیس افسر کی تعریف بھی کی تھی۔

ان کی ایک ٹویٹ یوں تھی ’اور ایک یہ ہیں ان چودہ میں سے جس کا مقابلہ کوئی مرد نہیں کر سکتا جب ایک خاتون اپنے کام میں بہتر ہوتی ہے تو کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا مگر دوسری جانب۔۔۔۔۔۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔