فرانس اور جرمنی کی برطانوی وزیراعظم کوتنبیہ

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 24 جنوری 2013 ,‭ 22:57 GMT 03:57 PST

یورپی ملک جرمنی اور فرانس نے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو خبردار کیا ہے کہ برطانیہ یورپی اتحاد کی رکنیت کی شرائط میں اپنی مرضی کی چیزوں کا انتخاب نہیں کر سکتا۔

دونوں ملکوں کی جانب سے یہ تنبیہ برطانوی وزیراعظم کی جانب سے یورپی اتحاد میں رہنے یا نہ رہنے کی حوالے سے ریفرینڈم کرانے کے اعلان کے بعد دی گئی ہے۔

برطانوی وزیراعظم نے کہا ہے کہ سال دو ہزار پندرہ میں منعقدہ عام انتخابات میں اگر ان کی جماعت کنزرویٹو دوبارہ اقتدار میں آئی تو یورپی اتحاد میں شامل رہنے کے سوال پر ریفرینڈ کرایا جائے گا۔

اس ریفرینڈم میں ووٹرز سے پوچھا جائے گا کہ رکنیت سے باہر نکلا جائے یا شامل رہنے کے لیے دوبارہ مذاکرات کیے جائیں۔

جرمنی کا کہنا ہے کہ برطانیہ اپنی مرضی کے مطابق چیزیں منتخب نہیں کر سکتا جب کہ فرانس کا کہنا ہے کہ’مینیو یا اپنی مرضی کے مطابق رکنیت کا انتخاب‘ میز پر نہیں ہے۔

تاہم جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل بظاہر برطانوی وزیراعظم کے خدشات پر رعایت دینے پر نظر آتی ہیں اور انہوں نے یورپی اتحاد اور برطانوی خواہشات پر منصفانہ سمجھوتے پر زور دیا ہے۔

بی بی سی کے یورپی امور کے مدیر گیون ہیوٹ کا کہنا ہےکہ پہلے ہی طرح محتاط اینگلا مرکل چاہتی ہیں کہ برطانیہ کو یورپی اتحاد میں رکھنے کے لیے راستے تلاش کیے جائیں لیکن بلآخر انہوں نے کم یورپ کی بجائے زیادہ یورپ کا عزم کر رکھا ہے۔

امریکہ نے برطانوی وزیراعظم کی یورپی اتحاد میں شامل رہنے کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو یقین ہے کہ برطانیہ یورپی اتحاد میں رہتے ہوئے زیادہ مضبوط ہے۔

برطانوی وزیراعظم کی یورپی اتحاد میں شامل رہنے کے معاملے پر تقریر کا کافی عرصے سے انتظار تھا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ریفرینڈ برطانیہ کی قسمت کا فیصلہ کرے گا اور اگر وہ ایک نیا تعلق محفوظ کرتے ہیں تو وہ اس میں خوش ہونگے اور وہ دل و جان سے یورپی اتحاد میں رہنے کی مہم چلائیں گے۔

تاہم انہوں نے واضح نہیں کیا کہ برطانیہ نئے سمجھوتے کے تحت کون سے طاقت واپس لینا چاہتا ہے اور اگر بات چیت درست سمت میں نہیں جاتی تو اس کے بعد کیا ہو گا۔

فرانسیسی وزیر خارجہ لورینٹ فیبیس کا کہنا ہے کہ یورپی اتحاد سے باہر برطانیہ کا مستقبل ’خطرناک‘ ہو گا۔

انہوں نے فرانسیسی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ ہم چاہتے ہیں کہ برطانیہ اپنی تمام مثبت خصوصیات یورپ میں لانے کے قابل ہو لیکن آپ یورپ کو’ مینیو کارڈ یا اپنی مرضی کے مطابق انتخاب‘ نہیں بنا سکتے‘۔

’ تصویر کریں کہ یورپ ایک فٹبال کلب ہے اور آپ اس میں شامل ہوتے ہیں اور جب اس میں آ گئے تو یہ نہیں کہہ سکتے کہ آئیں اب رگبی کھیلتے ہیں۔‘

فرانس کے ایک معتدل دائیں بازو کے اخبار لا فیگارو کی جانب ایک آن لائن جائزے کے مطابق زیادہ تر فرانسیسی چاہتے ہیں کہ برطانیہ یورپی اتحاد میں نہ رہے۔

اخبار کے مطابق رائے شماری میں حصہ لینے والے پندرہ سو افراد میں سے ستر فیصد نے برطانیہ کے نکلنے اور تیس فیصد نے اتحاد میں شامل رہنے کے حق میں ووٹ دیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔