امریکی عوام کو دھوکے میں نہیں رکھا:ہلیری

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 24 جنوری 2013 ,‭ 05:15 GMT 10:15 PST

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی قونصلیٹ پر حملے اور وہاں ہونے والی ہلاکتوں پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس الزام کی تردید کی ہے کہ حکام نے اس واقعے پر عوام کو دھوکے میں رکھا۔

ہلیری کلنٹن نے امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کو بتایا کہ انہوں نے گزشتہ برس گیارہ ستمبر کو لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی قونصلیٹ پر حملے کے حوالے سے ناکافی حفاظتی انتظامات کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

امریکی وزیر خارجہ نےکہا کہ ’میں چاہتی ہوں کہ جب میں وزارت کو چھوڑ کر جاؤں تو ہمارا ملک پہلے سے بھی زیادہ مضبوط اور محفوظ ہو اور یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم مستقبل میں اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں۔‘

ہلیری کلنٹن سے لیبیا کے شہر بن غازی میں گزشتہ برس امریکی قونصلیٹ پر ہونے والے حملے کے حوالے سے سوالات کیے گئے۔

امریکہ میں محکمۂ خارجہ کے تین اہل کاروں نےگزشتہ ماہ لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی قونصلیٹ پر حملے کے حوالے سے ایک تحقیقاتی رپورٹ جاری ہونے کے بعد اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

مستعفی ہونے والے اہل کاروں میں سفارتی سکیورٹی کے بیورو کے سربراہ اریک بوسویل، ان کی نائب شارلین لیمب اور شمال مغربی افریقہ کے ذمے دار اسسٹنٹ سیکرٹری ریمنڈ میکسل شامل تھے۔

بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر حملے کے بارے میں سرکاری تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق قونصل خانے کے حفاظتی انتظامات ناکافی تھے جس کی وجہ سے وہاں پر موجود امریکی سفیر اور تین اور امریکی ہلاک ہو گئے تھے۔

تحقیقاتی رپورٹ میں امریکی محکمۂ خارجہ کے سفارتی سکیورٹی کے بیورو اور مشرقِ وسطیٰ کے معاملات پر نظر رکھنے والے بیورو کو تعاون نہ کرنے اور حفاظتی اقدمات کے حوالے سے ابہام پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

واضح رہے کہ بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر حملے کے بارے میں سرکاری تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق قونصل خانے کے حفاظتی انتظامات ناکافی تھے جس کی وجہ سے وہاں پر موجود امریکی سفیر کرسٹوفر سٹیونز اور دیگر تین امریکی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

بن غازی میں مسلح افراد کے حملے کے بعد کرسٹوفر سٹیونز قونصلیٹ کی عمارت میں لگنے والی آگ کے باعث دم گھٹنے سے ہلاک ہو گئے تھے۔

اس حملے کے بعد امریکہ میں اس معاملے پر سیاسی تنازع پیدا ہوگیا تھا کہ کون اس واقعے کے بارے میں کیا جانتا تھا اور نتیجتاً ایک غیرجانبدار پینل کو اس واقعے کی تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔