’شمالی کوریا جوہری تجربے کا ارادہ رکھتا ہے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 24 جنوری 2013 ,‭ 04:30 GMT 09:30 PST

جوہری تجربے کے لیے کوئی نظام الاوقات نہیں دیا گیا

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی پابندیوں میں حالیہ سختی کا جواب جوہری تجربے کی شکل میں دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔

گزشتہ ماہ شمالی کوریا کی جانب سے ایک دور مار راکٹ کے تجربے کے بعد سلامتی کونسل نے منگل کو اس پر عائد پابندیوں میں اضافہ کر دیا تھا۔

اس کے جواب میں شمالی کوریا نے جوہری پروگرام پر مزید مذاکرات کو رد کرتے ہوئے اپنی فوجی اور جوہری صلاحتیوں کو بڑھانے کا اعلان کیا تھا۔

اب جمعرات کو شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے پر ملک کے قومی دفاعی کمیشن کے حوالے سے شائع ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اعلیٰ درجے کا جوہری تجربہ‘ اور راکٹوں کے مزید تجربات کا منصوبہ ملک کے ازلی دشمن امریکہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے۔

دفاعی کمیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ سے نمٹنے کا واحد طریقہ بندوق ہے۔

شمالی کوریا کے معاملے پر امریکی ایلچی گلین ڈیویز کا کہنا ہے کہ جوہری تجربہ ایک غلطی ہوگا۔

تاہم بیان میں اس جوہری تجربے کے لیے کوئی نظام الاوقات نہیں دیا گیا۔ اگر شمالی کوریا جوہری تجربہ کرتا ہے تو دو ہزار چھ اور دو ہزار نو کے بعد یہ اس کا تیسرا جوہری تجربہ ہوگا۔

بیان کے مطابق دفاعی کمیشن نے کہا ہے کہ ’ہم یہ بات چھپانا نہیں چاہتے کہ شمالی کوریا کے اصل دشمن امریکہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے متعدد سیٹلائٹ اور دور مار راکٹوں کے تجربات کیے جاتے رہیں گے اور اس کے علاوہ ایک اعلیٰ درجہ کا جوہری تجربہ بھی ہوگا۔‘

شمالی کوریا پر عائد پابندیوں کی فہرست میں مزید انفرادی ناموں اور شمالی کوریا کی خلائی ایجنسی کا نام شامل کیا گیا

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مطابق اقوام متحدہ کی پابندیوں کے تحت شمالی کوریا طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ نہیں کر سکتا اور شمالی کوریا کی جانب سے دسمبر میں تجربہ کرنے پر اس پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

شمالی کوریا نے مصنوعی سیارے کو خلاء میں پہنچانے میں استعمال ہونے والے راکٹ کا پہلی بار کامیاب تجربہ کیا تھا۔

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اس راکٹ کی مدد سے ایک سیارچے کو خلائی مدار میں پہنچا دیا گیا ہے جبکہ مغربی طاقتوں کا خیال ہے کہ شمالی کوریا نے اس کی آڑ میں ممنوعہ میزائل ٹیکنالوجی کا تجربہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب پہلے شمالی کوریا پر عائد پابندیوں کی فہرست میں مزید انفرادی ناموں اور شمالی کوریا کی خلائی ایجنسی کا نام شامل کیا گیا ہے۔

شمالی کوریا گزشتہ ایک دہائی سے اپنے جوہری پروگرام پر چین، امریکہ، جنوبی کوریا اور روس سے بات چیت کر رہا ہے اور وعدہ کرتا رہا ہے کہ خوراک اور توانائی کے بدلے میں وہ اپنا جوہری پروگرام ختم کر دے گا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شمالی کوریا کی جانب سے سال دو ہزار چھ اور سال دو ہزار نو میں جوہری تجربے کرنے کے بعد اس پر میزائل تجربوں کرنے پر پابندی لگا دی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔