مصر: جھڑپوں کے بعد سویز میں فوج تعینات

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 26 جنوری 2013 ,‭ 07:17 GMT 12:17 PST

پولیس نے صدارتی محل سے باہر خاردار تاروں کو عبور کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی

مصر میں انقلاب کی دوسری سالگرہ کے موقع پر ہونے والی جھڑپوں میں ہلاکتوں کے بعد سویز میں فوج تعینات کر دی گئی ہے۔

سویز میں فوج نے بکتر بند گاڑیوں میں سرکاری عمارت کے باہر پوزیشن سنھبال لیں ہیں۔

سویز میں ریاست کی سکیورٹی کے سربراہ نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ ہم نے مسلح افواج کو اس مشکل سے نکلنے تک اضافی کمک بھیجنے کے لیے کہا ہے۔

حکام کے مطابق سویز میں جھڑپوں کے دوران چھ افراد ہلاک ہوئے جبکہ قاہرہ، سکندریہ اور دوسرے شہروں میں بھی جھڑپیں ہوئیں۔

مصر کے دارالحکومت قائرہ میں بھی سنیچر کی صبح مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں ہوئیں۔

ادھر مصر کے صدر محمد مرسی نے پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں سات افراد کی ہلاکت کے بعد عوام سے پر امن رہنے کی اپیل کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق سکندریہ، پورٹ سید اور دوسرے شہروں میں پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئیں جبکہ مظاہرین نے سرکاری عمارتوں پر حملے کیے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق پولیس نے جمعہ کو قاہرہ میں صدارتی محل سے باہر خاردار تاروں کو عبور کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی۔

"ہمارا انقلاب جاری ہے۔ ہم کسی ایک سیاسی جماعت کی مصر پر جاگیرداری کو رد کرتے ہیں۔ ہم اخوان المسلمین کی ریاست کو نہیں مانتے۔"

حکومت مخالف رہنما حمدین صباحی

صدر مرسی کے مخالفین ان پر دھوکا دہی کا الزام عائد کرتے ہیں جس کی وہ تردید کرتے ہیں۔

بائیں بازو کی سیاست سے تعلق رکھنے والے ایک رہنما حمدین صباحی نے صدر محمد مرسی کی پارٹی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خبررساں ادارے رائٹر کو بتایا ’ ہمارا انقلاب جاری ہے۔ ہم کسی ایک سیاسی جماعت کی مصر پر جاگیرداری کو رد کرتے ہیں۔ ہم اخوان المسلمین کی ریاست کو نہیں مانتے‘۔

مظاہرے میں شامل حینی ریگی نے بی بی سی کو بتایا ’میں نے محمد مرسی کو ووٹ دیا کیونکہ میں گزشتہ حکومت کے کسی فرد کو اقتدار میں نہیں دیکھنا چاہتا تھا، لیکن انہوں نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا‘۔

مصر کے صدر محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمین نے انقلاب کے دن کو منانے کے لیے سرکاری طور پر ریلیاں نکالنے کا اعلان نہیں کیا تھا۔

مخالفین صدر مرسی پر دھوکا دہی کا الزام عائد کرتے ہیں جس کی وہ تردید کرتے ہیں

اس سے قبل اقوامِ متحدہ کے عالمی نگراں جوہری ادارے کے سابق سربراہ محمد البرادی نے ٹوئٹر پر مصر کے انقلاب کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے لوگوں سے تحریر سکوائر میں جمع ہونے کی اپیل کی تھی۔

مصر کے صدر محمد مرسی نے گزشتہ ماہ خود کو وسیع اختیارات دینے کے بعد ملک کے نئے متنازع آئین پر ریفرنڈم کروایا تھا جس سے ملک میں سیاسی تنازع پیدا ہو گیا تھا۔

مصری عدلیہ کے بہت سے ججوں نے اس ریفرنڈم کی نگرانی سے انکار کیا تھا جس میں تریسٹھ فیصد رائے دہندگان نے نئے آئین کے حق میں ووٹ دیا تاہم ووٹنگ کی شرح تینتیس فیصد کے لگ بھگ رہی تھی۔

مصر کے نئے آئین کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس میں خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کو تحفظ نہیں دیا گیا۔

مصر کے صدر محمد مرسی اور ان کی جماعت نے حزب مخالف کی جانب سے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے حزب مخالف کو مزاکرات کی دعوت دی تھی۔

واضح رہے کہ مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کو اقتدار سے علیحدہ ہوئے دو برس مکمل ہو گئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔