فرانسیسی اور مالی فوج کا ہمبوری پر دوبارہ قبضہ

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 26 جنوری 2013 ,‭ 00:52 GMT 05:52 PST

مالی میں 2000 سے زائد فرانسیسی فوجی تعینات ہے

مالی میں حکام کے مطابق اسلامی شدت پسندوں کے خلاف مہم کے دوران فرانسیسی اور مالی فوجیوں نے ہمبوری کے قصبے پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

ہمبوری اسلامی شدت پسندوں کے گڑھ گاؤ سے تقربیاً 160 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس سے پہلے فرانس نے گاؤ کے قریب باغیوں کے ٹکانوں اور ان کے تیل اور اسلحے کے ذخائر پر ہوائی بمباری کی۔

لیکن خبروں کے مطابق باغیوں نے ملک کے مشرقی علاقوں کو نائجر سے جڑنے والے پل کو اڑایا ہے۔ اس طرف سے افریقی ممالک کی فوج باغیوں کے خلاف محاذ کھولنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

یہ پل تاسیگا کے علاقے میں آبی درے پر ہے جو نائجر سے گاؤ کی طرف مختصر ترین راستہ ہے۔ لیکن مالی کے پارلیمان کے سابق رکن ابراہیم آگ ادبالتاناطے کا کہنا ہے کہ یہ پل آبی درے کو پار کرنے کا واحد راستہ نہیں۔

انہوں نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ’ آپ پانچ سے دس کلومیٹر چل کر دوسرے راستے سے نائجر سے گاؤ روڈ پر آسکتے ہیں۔‘

ادھر مصر کے صدر محمد مرسی نے مالی میں خانہ جنگی ختم کرنے کے لیے امن منصوبہ پیش کیا ہے۔

ان کا پانچ نکاتی منصوبہ سیاسی بات چیت، معاشی اور ترقیاتی کام اور مربوط امدادی کوششوں پر مشتمل ہے۔

صدر محمد مرسی نے مالی میں فوجی مداخلت کی مخالفت کی تھی۔

جنوری سے شروع ہونے والی کارروائی کے بعد 7000 سے زائد عام شہری لڑائی سے بچنے کے لیے پڑوسی ممالک میں پناہ لیے ہوئے ہیں

دوسری طرف توقع تھی کہ نائجر اور چاڈ سے تعلق رکھنے والی فوج اس راستے سے باغیوں کے خلاف مہم جوئی میں حصہ لے گی۔

کئی افریقی ممالک نے شمالی مالی پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے مالی حکومت کی عسکری امداد کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

برطانیہ کی وزارت دفاع نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ مالی میں فرانسیسی فوج کی مدد کے لیے اپنا جاسوسی طیارہ سینٹینل آر ون مہیا کر رہا ہے۔

یہ اعلیٰ ٹیکنالوج والا جہاز ایسے آلات سے لیس ہے جو منٹوں میں ہزاروں مربع کلو میٹر کے علاقے کی جانج پڑتال کرسکتا ہے۔ اور یہ جہاز 2011 میں کرنل قذافی کی حکومت کے خلاف بغاوت کے دوران لیبا میں مشنز پر جاتا تھا۔

اسلامی شدت پسندوں نے شمالی مالی کے بڑے حصے پر قبصہ کرکے وہاں سخت گیر شریعت کا نفاذ قائم کیا ہے۔

یاد رہے کہ فرانس نے باغیوں کی ملک کی مشرق کی طرف پیش قدمی کو روکنے کے لیے مالی میں گیارہ جنوری کو فوجی مداخلت کی تھی۔

مالی میں 2000 سے زائد فرانسیسی فوجی تعینات ہے۔

چاڈ سے بھی فوج زمینی راستے سے مالی میں داخل ہو رہی ہے جبکہ نائجیریا کی ایک 1000 کے قریب فوجی بھی اس کارروائی میں شامل ہونا متوقع ہیں۔

اقوام متحدہ مہاجرین کے لیے ایجنسی کا کہنا ہے کہ دس جنوری سے شروع ہونے والی کارروائی کے بعد 7000 سے زائد عام شہری لڑائی سے بچنے کے لیے پڑوسی ممالک میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔