کندوز کے مصروف بازار میں خود کش حملہ

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 26 جنوری 2013 ,‭ 15:40 GMT 20:40 PST

شمالی افغانستان میں کندوز صوبے میں ایک مصروف بازار میں ہونے والے خودکش حملے کے نتیجے میں دس افراد ہلاک جبکہ اٹھارہ کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔

یہ خود کش حملہ کندوز شہر کے مرکز میں ہوا اور ہلاک ہونے والوں میں اطلاعات کے مطابق انسدادِ دہشت گردی کے سربراہ مستارے مارے اور پولیس کے سربراہ بھی شامل ہیں۔

حملے کے وقت اس علاقے میں بڑی تعداد میں پولیس اور سولین افراد موجود تھے۔

اب تک کسی بھی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے مگر حال ہی میں ہونے والے مختلف حملوں میں طالبان کا ہاتھ رہا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق زخمی ہونے والوں میں سے تیرہ افراد سولین ہیں جبکہ پانچ پولیس اہلکار ہیں۔

اسی طرح سنیچر کو ایک خود کش حملہ آور نے جو سائیکل پر سوار تھا حملہ کر کے جنوب مشرقی صوبے غزنی میں دو افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

جمعہ کو صوبے کپیسہ میں ایک خود کش کار بم حملے کے نتیجے میں جو ایک نیٹو کے قافلے پر کیا گیا کم از کم پانچ سولین ہلاک جبکہ پندرہ زخمی ہو گئے۔

اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی۔

واضح رہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں حالیہ دنوں میں متعدد اہم شخصیات پر حملے کیے گئے ہیں۔

افغانستان میں گزشتہ برس کے دوران افغان فوج کے اہلکاروں کی جانب سے نیٹو اور اتحادی فوجیوں پر حملوں کے واقعات میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔