برطانیہ کے دس لاکھ، دس کروڑ کے نوٹ

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 26 جنوری 2013 ,‭ 17:01 GMT 22:01 PST

برطانیہ کے مرکزی بینک ’بینک آف انگلینڈ‘ کی تجوریوں میں بہت کم تعداد میں انتہائی بڑی مالیت کے کرنسی نوٹ موجود ہیں جنہیں ’جائنٹس‘ اور ’ٹائٹنز‘ کہا جاتا ہے مگر یہ بازار میں دستیاب نہیں ہیں جس کی بہت بہتر وجوہات ہیں۔ اس کی وجہ بہت واضح ہے کیونکہ ان کی مالیت اتنی ہے جس کے بارے میں عام آدمی صرف سوچ ہی سکتا ہے۔

لیکن ان کا مقصد کیا ہے؟

نیلام گھر ’سپنک‘ کے بینک نوٹ کے شعبے کے بارنبی فول کے مطابق ’جب بات ہو ایک ملین پاؤنڈ کے نوٹ کی تو ہر ایک سوچتا ہے کہ کیا ہی زبردست خیال ہے۔ بہت سے لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ یہ نوٹ واقعی موجود ہیں‘۔

حقیقت یہ ہے کہ دس لاکھ پاؤنڈ کا نوٹ جسے جائنٹ کہا جاتا ہے بازار میں دستیاب نہیں ہے اور یہ سوچنا تو ناممکنات میں سے ہے کہ آپ اسے اپنی اے ٹی ایم یا کیش مشین سے کبھی حاصل کر پائیں گے۔ ہم میں سے کتنے ہیں جو اپنے بٹوے میں دس لاکھ پاؤنڈ کا نوٹ رکھ کر پھرنے کا خطرہ مول لیں گے؟ یہ علیحدہ بات ہے کہ اتنے پیسے آپ کے اکاؤنٹ میں ہوں کہ آپ اسے نکلوانے والے بنیں۔

اب آپ سن کر حیران ہوں گے اس نوٹ کی اوقات سو ملین یعنی دس کروڑ پاؤنڈ کے کرنسی نوٹ جسے ’ٹائٹن‘ کہتے ہیں کے سامنے بہت چھوٹی ہے جس پر لکھا ہے کہ اسے رکھنے والے کو دس کروڑ ادا کئے جائیں۔

ہر اس پاؤنڈ کے نوٹ کے لیے جو سکاٹ لینڈ یا شمالی آئرلینڈ کے بینک جاری کرتے ہیں انہیں بینک آف انگلینڈ کے پاس اس کے برابر زرِ ضمانت جمع کروانا پڑتا ہے

روز مرہ زندگی میں ان نوٹوں کی کوئی عملی اہمیت نہیں ہے مگر دونوں برطانیہ کے کرنسی نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، کیونکہ یہ سکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ میں جاری کیے گئے بینک نوٹوں کے لیے زر ضمانت کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ سکاٹ لینڈ میں جاری کیے گئے پانچ پاؤنڈ کو کس طرح انگلینڈ کے بعض کاروبار شک کی نظر سے دیکھتے ہیں مگر ان نوٹوں کا مقصد ان نوٹوں کی وقعت کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

ہر اس پاؤنڈ کے نوٹ کے لیے جو سکاٹ لینڈ یا شمالی آئرلینڈ کے بینک جاری کرتے ہیں انہیں بینک آف انگلینڈ کے پاس اس کے برابر زرِ ضمانت جمع کروانا پڑتا ہے۔

اگر ضرورت پڑے تو کسی بھی مشکل میں پڑے سکاٹش بینک کے نوٹوں کی جگہ انگلینڈ کے نوٹ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

سو سکاٹش اور شمالی آئرش بینک اپنا زرِ ضمانت جمع کرواتے ہیں جن سے یہ ’جائنٹس‘ اور ’ٹائٹنز‘ جاری کیے جاتے ہیں۔ بینک آف انگلینڈ انہیں اندرونی طور پر چھاپتا ہے بجائے اس کے کہ ان کو بیرونی پرنٹرز سے چھپوائیں اور پھر ان کو بہت احتیاط سے تجوری میں بند کر کے رکھ دیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ بینک آف انگلینڈ کے مطابق یہ ہے کہ بہت سارے نوٹ ملک بھر میں مختلف جگہ رکھنے کی بجائے ایک جگہ رکھنا اہم ہے۔

دونوں نوٹ برطانیہ کے کرنسی نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، کیونکہ یہ سکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ میں جاری کیے گئے بینک نوٹوں کے لیے زر ضمانت کے لیے استعمال ہوتے ہیں

یہ بہت کم ہوا ہے کہ دس لاکھ پاؤنڈ کے پرانے نوٹ بینک آف انگلینڈ کی تجوریوں یا ریکارڈز سے بچ کر نکلے ہوں۔

فول کا کہنا ہے کہ انہیں ایک بار دس لاکھ پاؤنڈ کا منسوخ شدہ نوٹ پیش کیا گیا تھا جس کا تعلق دوسری جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ کو دی گئی امداد سے تھا جو مارشل منصوبے کے تحت دی گئی تھی۔

یہ نوٹ ایک ریٹائر ہونے والے کیشئر کو پیش کیا گیا تھا جن کی بیوہ نے بعد میں اسے نیلامی کے لیے پیش کیا۔

فول کا کہنا تھا کہ بینک آف انگلینڈ نے انہیں کہا کہ اس نیلامی کی تشہیر نہ کریں جس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ ’ملین پاؤنڈ کے نوٹ کھلے عام نہیں ہونے چاہیں‘۔

جب ملکہ برطانیہ نے بینک آف انگلینڈ کا دسمبر دو ہزار بارہ میں دورہ کیا تو انہوں نے ایک دس لاکھ پاؤنڈ کے نمائشی نوٹ پر دستخط کیے جس کو باقاعدہ بینک آف انگلینڈ نے جاری نہیں کیا اور یہ اب بینک کی عجائب گھر میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

ان نوٹوں کی کہانی ایک طرف مگر ہم عام لوگ پانچ، دس، بیس اور پچاس پر ہی اکتفا کرتے ہیں تب تک۔۔۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔