برازیل میں آتشزدگی: تین افراد گرفتار

آخری وقت اشاعت:  اتوار 27 جنوری 2013 ,‭ 18:10 GMT 23:10 PST

آتش زدگی سے ہلاک ہونے والوں کے غم زدہ لواحقین

برازیل کے جنوبی شہر سانتا ماریا میں ایک نائٹ کلب میں آتشزدگی کے واقعے کے سلسلے میں پولیس نے تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس نائٹ کلب میں آتشزدگی کے نتیجے میں دو سو اکتیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

پولیس کے مطابق ’کِس‘ نامی نائٹ کلب کے مالک، میوزک بینڈ گوریزادا فندانگویرا کے ایک رکن اور بینڈ کے سکیورٹی چیف سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

ایک چوتھے شخص کی تلاش جاری ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کلب کا مشترکہ مالک ہے۔

پیر کے روز ہلاک ہونے والے چند افراد کی تدفین کی گئی۔ برازیل میں تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔

پچاس سال میں ملک میں ہونے والے آتش زدگی کا یہ بدترین واقعہ اس وقت پیش آیا جب گوریزادا فندانگویرا نے سٹیج پر پرفارم کرتے ہوئے ایک شعلہ روشن کیا۔

حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد طالب علموں کی ہے۔ اس سے پہلے حکام نے آتشزدگی کے واقعے میں مرنے والوں کی تعداد دو سو پینتالیس بتائی تھی۔

اطلاعات کے مطابق نائٹ کلب سے نکلنے کا صرف ایک ہی راستہ تھا۔

برازیل کی صدر ڈلما رؤسف کے ترجمان کے بعد صدر اپنا چلی کا دورہ مختصر کر کے واپس وطن لوٹی ہیں اور اپنے وزرا کے ہمراہ ہسپتال میں زیر علاج متاثرین کی عیادت کر رہی ہیں۔

حکام کے مطابق زیادہ تر اموات زہریلے دھوئیں کے باعث ہوئی ہیں اور سینکڑوں افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

شہر کے مرکزی مردہ خانے کی گنجائش کم ہونے کی وجہ سے ایک ورزش گاہ میں عارضی مردہ خانہ قائم کیا گیا ہے اور یہاں ہلاک شدگان کے لواحقین اپنے عزیزوں کی شناخت کر رہے ہیں۔

آگ بجھانے والے محکمے کے چیف گوئڈو دی میلو نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، ’افراتفری کی وجہ سے لوگوں نے ایک دوسرے کو روندنا شروع کر دیا۔‘ گوئڈو دی میلو نے مزید کہا کہ آگ کے بعد کلب میں افراتفری کے باعث کچلے جانے سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔

مبینہ طور پر آگ اس وقت لگی جب بینڈ نے ایک رکن نے شعلہ بلند کیا

جائے حادثہ پر موجود ایک مقامی صحافی کے مطابق نائٹ کلب میں دو ہزار لوگوں کی گنجائش ہے اور یہ سنیچر اور اتوار کی رات کو پوری طرح سے بھرا ہوا تھا۔

فائر بریگیڈ کا عملہ متاثرہ نائٹ کلب میں امدادی سرگرمیوں کے لیے اس کی دیواروں کو توڑ کر اندر داخل ہوا۔

آگ بجھانے والے عملے کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے ایسا المیہ پہلے کبھی نہیں دیکھا اور ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے۔

’لوگ بہت ہی نوجوان تھے۔۔۔ مختلف جگہوں پر لاشوں کے ڈھیر لگے ہوئے تھے اور کچھ ٹوائلٹ میں تھیں جو زہریلے دھوئیں کی وجہ سے دم گھٹنے کے باعث ہوئیں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔