مالی:سرکاری اور فرانسیسی فوج کی پیش قدمی

آخری وقت اشاعت:  اتوار 27 جنوری 2013 ,‭ 09:19 GMT 14:19 PST

مالی کے حکام نے گاؤ کے گلیوں میں خوشی کے مناظر کے بارے میں بتایا لیکن انہوں نے لوٹ مار کا بھی ذکر کیا

مالی میں اسلامی شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں سرکاری فوج فرانسیسی فوج کے ساتھ پیش قدمی کرتے ہوئے ٹمبکٹو کی جانب بڑھ رہی ہے۔

شمالی مالی میں بڑے قصبے کیڈال اور ٹمبکٹو اب بھی شدت پسندوں کے قبضے میں ہیں۔

اس سے پہلے سنیچر کو مالی اور فرانسیسی فوج نے ایک اہم شہر گاؤ پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

دریں اثناء افریقی اتحاد کی تنظیم ایفریقن یونین ایک اجلاس میں مالی میں جاری تنازعے کے بارے میں غور کر رہی ہے جس میں مالی میں فرانسیسی افواج کی مدد کے لیے افریقی اتحاد کی افواج کی تعیناتی کے معاملے پر بھی بات کی جا رہی ہے۔

افریقی ملک چاڈ اور نائجر کے فوجی گاؤ شہر پر کنٹرول مستحکم کرنے کے لیے مالین فوج کی مدد کر رہے ہیں اور اب نائجر اور چاڈ کی فوج فرانسیسی اور مالی کے فوجیوں کی مدد کرنے کے لیے نائجر کی سرحد کی طرف سے کارروائی کرے گی۔

ایک عسکری ذرائع نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ شمالی مالی میں شدت پسندوں کے ایک گروپ کے سربراہ انصار دین کے مکان کو ایک کارروائی میں تباہ کر دیا گیا ہے۔

اس کارروائی سے پہلے گاؤ پر طاوراک باغیوں اور اسلامی شدت پسندوں نے گذشتہ اپریل میں قبضہ کر کے سخت شرعی نظام نافذ کیا تھا۔

فرانسیسی فوج کی سربراہی میں فوجی دستوں نے گاؤ کے ہوائی اڈے اور دفاعی لحاظ سے اہم پل پر قبضہ کر کے قصبے کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔

فرانسیسی حکام کے مطابق اب نائجر اور چاڈ کی فوج اس علاقے میں امن وامان قائم کرنے کے لیے آئے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ گاؤ پر مالی حکومت کی عملداری دوبارہ قائم ہو گئی ہے اور قصبے کے میئر سنیچر کو واپس آ گئے ہیں۔

ایتھیوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں ہونے والے اس اجلاس میں افریقی ممالک کے سربراہ شرکت کر رہے ہیں

گاؤ پر شدت پسندوں کے قبضے کے بعد شہر کے مئیر کو شہر بدر ہونا پڑا تھا۔مالی کے حکام نے گاؤ کے گلیوں میں خوشی کے مناظر کے بارے میں بتایا لیکن انہوں نے لوٹ مار کا بھی ذکر کیا۔

اس کارروائی میں ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں سرکاری طور کچھ نہیں بتایا گیا ہے لیکن فرانسیسی فوجی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ درجنوں کی تعداد میں شدت پسند ہلاک کیے گئے ہیں جبکہ فرانسیسی اور مالی کے فوجیوں کو کوئی جانی نقصان نہیں پہنچا۔

افریقی اتحاد کی تنظیم ایفریقن یونین ایک اجلاس میں مالی میں جاری تنازعے کے بارے میں غور کر رہی ہے جس میں مالی میں فرانسیسی افواج کی مدد کے لیے افریقی اتحاد کی افواج کی تعیناتی کے معاملے پر بھی بات کی جا رہی ہے۔

ایتھیوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں ہونے والے اس اجلاس میں افریقی ممالک نے اس کارروائی کے لیے سات ہزار سات سو فوجی دینے کا وعدہ کیا ہے جو کہ فرانس اور مالی کے فوجیوں کی مالی کے شمال میں جاری اسلامی شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں مدد کریں گے۔

اب تک بہت کم تعداد میں افریقی فوجی مالی میں تعینات کیے گئے ہیں۔

اسلامی شدت پسندوں نے شمالی مالی کے بڑے حصے پر قبصہ کر کے وہاں سخت گیر شریعت کا نظام نافذ کیا تھا۔

یاد رہے کہ فرانس نے باغیوں کی ملک کی مشرق کی طرف پیش قدمی کو روکنے کے لیے مالی میں گیارہ جنوری کو فوجی مداخلت کی تھی۔

مالی میں 2000 سے زائد فرانسیسی فوجی تعینات ہے۔

اقوام متحدہ کے مہاجرین کے لیے ادارے کا کہنا ہے کہ دس جنوری سے شروع ہونے والی اس کارروائی کے بعد 7000 سے زائد عام شہری لڑائی سے بچنے کے لیے پڑوسی ممالک میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔