شمالی کوریا: اعلیٰ سطحی اقدامات کی دھمکی

آخری وقت اشاعت:  اتوار 27 جنوری 2013 ,‭ 13:53 GMT 18:53 PST

شمالی کوریا کے رہنما اقوام متحدہ کی پابندیوں سے نالاں ہیں

شمالی کوریا نے گزشتہ ہفتے تیسرے جوہری تجربے کے منصوبے کے اعلان کے بعد خبردار کیا ہے کہ معقول اور اعلیٰ سطحی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

شمالی کوریا کی سرکاری میڈیا کے مطابق صدر کم جونگ ان نے اعلیٰ سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ ایک میٹنگ کے دوران یہ بات کہی ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق صدر کم جونگ نے متعلقہ اہلکاروں کی ذمہ داریوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

حالانکہ ان اقدامات کی تفصیلات کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے۔

حالیہ تنبیہ سرکاری اخبار روڈونگ سنمن میں اس اداریے کے شائع ہونے کے بعد دی گئی جس میں کہا گیا تھا کہ جوہری تجربہ ’عوام کا مطالبہ ہے‘۔

رپورٹ میں کہا گیا تھاکہ’یہ لوگوں کا مطالبہ ہے کہ ہمیں کچھ کرنا چاہیے، نہ صرف جوہری تجربہ بلکہ اس سے بھی بڑا کچھ اور۔۔۔اقوام متحدہ نے ہمارے سامنے کوئی متبادل ہی نہیں چھوڑا ہے‘۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ شمالی کوریا کی جانب سے ایک دور مار راکٹ کے تجربے کے بعد سلامتی کونسل نے اس پر عائد پابندیوں میں اضافہ کر دیا تھا۔جس کے بعد شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے خلاف کئی وارننگ جاری کی ہیں۔

شمالی کوریا نے جوہری پروگرام پر مزید مذاکرات کو رد کرتے ہوئے اپنی فوجی اور جوہری صلاحتیوں کو بڑھانے کا اعلان کیا تھا۔

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اگر جنوبی کوریا نے اقوام متحدہ کی جانب سے اس پر عائد پابندیوں کا ساتھ دیا تو وہ اس کے جواب میں اس پر حملہ کر سکتا ہے۔

امریکہ نے شمالی کوریا کے اس قدم کی مذمت کی تھی اور اسے ’غیر ضروری اشتعال انگیزی‘ سے تعبیر کیا تھا۔

شمالی کوریا نے بدھ کو ایک اور جوہری تجربہ کرنے کی دھمکی دی تھی اور کہا تھا وہ ایک اعلیٰ سطح کے جوہری ٹیسٹ کی تیاری کر رہا ہے۔

جمعرات کو شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’کے سی این اے ‘پر ملک کے قومی دفاعی کمیشن کے حوالے سے شائع ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ’اعلیٰ درجے کا جوہری تجربہ‘ اور راکٹوں کے مزید تجربات کا منصوبہ ملک کے ازلی دشمن امریکہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے‘۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مطابق اقوام متحدہ کی پابندیوں کے تحت شمالی کوریا طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ نہیں کر سکتا اور شمالی کوریا کی جانب سے دسمبر میں تجربہ کرنے پر اس پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

شمالی کوریا نے مصنوعی سیارے کو خلاء میں پہنچانے میں استعمال ہونے والے راکٹ کا پہلی بار کامیاب تجربہ کیا تھا۔

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اس راکٹ کی مدد سے ایک سیارے کو خلائی مدار میں پہنچا دیا گیا ہے جبکہ مغربی طاقتوں کا خیال ہے کہ شمالی کوریا نے اس کی آڑ میں ممنوعہ میزائل ٹیکنالوجی کا تجربہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شمالی کوریا کی جانب سے سال دو ہزار چھ اور سال دو ہزار نو میں جوہری تجربے کرنے کے بعد اس پر میزائل تجربوں کرنے پر پابندی لگا دی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔