افریقی اتحاد کی سوڈان میں قیامِ امن کی تجاویز

آخری وقت اشاعت:  اتوار 27 جنوری 2013 ,‭ 05:03 GMT 10:03 PST

جنوبی سوڈان میں سوڈانی حکومت جنوبی کردفان اور دریائے نیل کے قریبی قصبوں میں باغیوں کی بیخ کنی کے لیے لڑائی میں مصروف عمل ہے ۔

افریقی ممالک کے اتحاد افریقی یونین کی امن اور سلامتی کی کونسل نے جنوبی سوڈان میں جاری فسادات کے خاتمے کے مقصد کے لیے بہت سی سرکاری تجاویز تیار کیں ہیں جن کا مقصد جنوبی سوڈان میں جاری تنازعے کا خاتمہ ہے۔

جنوبی سوڈان میں سوڈانی حکومت جنوبی کردفان اور دریائے نیل کے قریبی قصبوں میں باغیوں کی بیخ کنی کے لیے لڑائی میں مصروف عمل ہے ۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں ہزاروں کی تعداد میں متاثرین ان فسادات کی وجہ سے انسانی فلاحی معاونت کے طلبگار ہیں۔

افریقی اتحاد کی سلامتی کونسل نے تجویز پیش کی ہے کہ ان جارحانہ کاروائیوں کا خا تمہ کیا جائے تاکہ یہاں پر بحالی کے اور فلاحی کاموں کو شروع کیا جا سکے اور باغیوں اور حکومت کے درمیان باہمی گفت و شنید کا آغاز کروایا جا سکے۔

اب تک سوڈان پیپلز لبریشن موومنٹ نارتھ یعنی شمال میں باغیوں کی تنظیم کے سربراہ مالک اگر نے بی بی سی کو ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ انکی اور حکومت کی گفت و شنید کے مرحلے سے پہلے فلاحی کاموں سے متعلقہ معاملات کو حل کیا جانا زیادہ ضروری ہے۔ یاد رہے کہ مالک اگر بہت شاذ ہی میڈیا پر نظر آئے ہیں اور ان کا یہ انٹرویو بہت عرصے میں پہلا ہے۔

"ہم سوڈان پیپلز لبریشن موومنٹ انسانی فلاحی کاموں کی ترویج کی خاطر جنگی جارحانہ کاروائیوں کو موقوف کرنے کی تجویز دے رہے ہیں۔ اور یہ امن اور بھلائی کے لیے کیا جا رہا ہے جس سے انسانیت کے لیے فلاحی کام کرنے والوں کو بھی تحفظ حاصل ہو گااور اس آپریشن کے حق میں ماحول سازگار ہو گا اسکے ساتھ ساتھ بعد میں سیاسی گفت و شنید کے لیے بھی سازگار ماحول میسر آئے گا۔"

سوڈان پیپلز لبریشن موومنٹ نارتھ کے سربراہ مالک اگر

مالک اگر نے کہا کہ ’ہم سوڈان پیپلز لبریشن موومنٹ انسانی فلاحی کاموں کی ترویج کی خاطر جنگی جارحانہ کاروائیوں کو موقوف کرنے کی تجویز دے رہے ہیں۔ اور یہ امن اور بھلائی کے لیے کیا جا رہا ہے جس سے انسانیت کے لیے فلاحی کام کرنے والوں کو بھی تحفظ حاصل ہو گااور اس آپریشن کے حق میں ماحول سازگار ہو گا اسکے ساتھ ساتھ بعد میں سیاسی گفت و شنید کے لیے بھی سازگار ماحول میسر آئے گا‘۔

بی بی سی کے ایک نمائندے کے مطابق خرطوم پر حالیہ دنوں میں شدید تنقید کی گئی تھی جب اسکی جانب سے باغیوں کے تسلط شدہ علاقوں تک رسائی کو نا ممکن بنانے کا عمل شروع کیا گیا تھا۔

ایک وقت تھا جب سوڈان پیپلز لبریشن موومنٹ کے باغی جنگجو جنوبی سوڈان کی آزادی کے لیے لڑنے والے باغیوں کے ساتھ لڑ رہے تھے لیکن پھر جنوبی سوڈان کے علیحدہ ملک بننے کی صورت میں انہوں نے شمالی سرحد کو چھوڑ دیا تھا۔

موجودہ فسادات جو جنوبی کردفان اور دریائے نیل کے علاقوں میں سن دو ہزار گیارہ میں شروع ہوئے ان کی وجہ قیام امن کے عمل میں کمزور پہلو ہیں۔

خرطوم نے جنوبی سوڈان کی حکومت پر اپنے پرانے اتحادیوں سوڈان پیپلز لبریشن موومنٹ کی مدد کا الزام عائد کیا ہے جس سے جنوبی سوڈان کی حکومت انکار کرتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔