متحدہ عرب امارات:94 افراد پر حکومت گرانے کا مقدمہ

آخری وقت اشاعت:  پير 28 جنوری 2013 ,‭ 01:02 GMT 06:02 PST

متحدہ عرب امارات میں حکام نے ملک کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے الزام میں چورانوے افراد پر مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔

ملک کے اٹارنی جنرل سلیم سعید قوبائش کے مطابق ان مشتبہ افراد نے ایک خفیہ گروپ بنایا تھا جو بظاہر لوگوں کو اسلام پر عمل پیرا ہونے کی تبلیغ کرتا تھا لیکن حقیقت میں یہ لوگ حکومت گرانا چاہتے تھے۔

اٹارنی جنرل کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان مشتبہ افراد نے متحدہ عرب امارات کے شہریوں کو حکومت کے خلاف اکسانے کے لیےمیڈیا اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کا استعمال کیا۔

انہو نے بیان میں کہا کہ’ مشتبہ افراد نے متحدہ عرب امارات کے نظامِ حکومت کے بنیادی اصولوں کی مخلافت کرنے اور اقتدار پر قبضہ کرنے کے لیے ایک ادارہ قائم کیا جسے وہ اور اسے چلایا۔‘

"مشتبہ افراد نے متحدہ عرب امارات کے نظامِ حکومت کے بنیادی اصولوں کی مخلافت کرنے اور اقتدار پر قبضہ کرنے کے لیے ایک ادارہ قائم کیا اور اسے چلایا"

متحدہ عرب امات کے اٹارنی جنرل سلیم سعید قوبائش

بیان کے مطابق یہ لوگ جائیداد کے کاروبار اور مذہبی چندوں کے ذریعے پیسے جمع کرتے تھے۔

اٹارنی جنرل نے بیان میں کہا کہ ان افراد کا اخوان الالمسلمین سمیت بیرونی لوگوں سے رابطے تھے۔

گذشتہ برس حکام نے 60 سے زائد سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا تھا، جن میں اکثریت کا تعلق الاصلاح تنظیم سے تھا۔

الاصلاح تنظیم پر شک ہے کہ اخوان المسلمین سے ان کے رابطے ہیں۔

الاصلاح کا کہنا ہے کہ وہ پرامن اصلاحات کے حق ہیں اور ان کے بین الاقوامی اخوان المسلمین سے کوئی رابطے نہیں۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات میں سیاسی پارٹیوں اور جسلے جلوسوں پر پابندی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔