سیاسی بحران مصر کو’ناکام ریاست‘ بنا سکتا ہے

آخری وقت اشاعت:  منگل 29 جنوری 2013 ,‭ 12:54 GMT 17:54 PST

مصر میں حالیہ مظاہروں میں پچاس سے ساٹھ افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں

مصر کی مسلح افواج کے سربراہ نے متنبہ کیا ہے کہ ملک میں موجود سیاسی بحران ریاست کو ناکامی کی جانب لے جا سکتا ہے۔

فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السيسي کا بیان سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر مصری فوج کے صفحے پر شائع کیا گیا ہے جو ان کے زیر تربیت فوجی اہکاروں سے ایک خطاب کا حصہ ہے۔

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ’اس طرح کی ناکامی مستقبل کی نسلوں کے لیے خطرہ‘ ہے۔

فوجی سربراہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مصر کے تین شہروں پورٹ سعید، اسماعیلیہ اور سویزمیں پرتشدد ہنگاموں کے بعد ایمرجنسی نافذ کر کے وہاں فوج کی بڑی تعداد تعینات کی گئی ہے۔

قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار یولیندے نیل کا کہنا ہے کہ مصری جنرل کا طویل بیان بظاہر ڈھکے چھپے الفاظ میں مظاہرین اور حزب اختلاف کو دھمکی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پرامن رہنے کی اپیل اور مصریوں کو فوج کے کردار کے بارے میں یقین دہانی کی کوشش ہے۔

ملک کے وزیر دفاع اور فوجی سربراہ جنرل عبدالفتاح السيسي کے بیان میں مزید کہا گیا ہے’ سیاسی طاقتوں کے درمیان جاری تنازع اور اختلافات سے ملکی انتظامیہ کی خدشہ ہے کہ یہ ریاست کو ناکامی کی طرف لے جا سکتا ہے اور مستقبل کی نسلوں کے لیے خطرہ ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ فوج کو ریاست کی بنیادوں کا ایک ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ نہر سویز کے ساتھ فوج کی تعیناتی کا مقصد اہم بحری راستے کی حفاظت کرنا ہے جو مصر کی غیرملکی آمدن کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔

صدر مرسی نے جون میں اقتدار میں آنے کے بعد اس وقت فوجی سربراہ فیلڈ مارشل حسین طنطاوی کو برطرف کر کے ان کی جگہ جنرل عبدالفتاح السيسي کو فوج کا سربراہ مقرر کیا تھا۔

دوسری جانب مصر میں ہزاروں افراد نے صدر محمد مرسی کی جانب سے نافذ کیے گئے رات کے کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مظاہرے کیے۔

کرفیو کے نفاذ اور عارضی ایمرجنسی کے باوجود ہزاروں افراد نے مصر کے شہر پورٹ سعید، اسماعیلیہ اور سویز میں مظاہرے کیے۔

ملک میں حزب اختلاف نے صدر محمد مرسی کی جانب سے قومی مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔

نیشنل سیلویشن فرنٹ کے سربراہ محمد البرادعی نے صدر کی مذاکرات کی دعوت کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت تک مذاکرات نہیں ہوں گے جب تک کہ قومی اتحاد حکومت قائم نہیں کی جاتی اور متنازع آئین کی شقیں تبدیل نہیں کی جاتیں۔

ایک اندازے کے مطابق حالیہ مظاہروں میں پچاس سے ساٹھ افراد تک ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔