شام کے شہر حلب سے درجنوں لاشیں برآمد

آخری وقت اشاعت:  منگل 29 جنوری 2013 ,‭ 14:13 GMT 19:13 PST

حلب میں سرکاری سکیورٹی فورسز اور باغیوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہو چکی ہیں

شام میں باغیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ حلب شہر میں درجنوں نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں جنہیں گولی مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔

برطانیہ میں سرگرم انسانی حقوق کی تنظیم سیرین آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ باغیوں کے کنٹرول والے ضلع بستان القصر میں ایک دریا کے کنارے کم از کم 56 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

ان میں زیادہ تر لوگوں کے ہاتھ ان کی کمر پر باندھے گئے تھے اور انہیں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔

حقوقِ انسانی کے کارکنوں نے اس ہولناک دریافت کی ویڈیو یو ٹیوب پر جاری کی ہے۔

اس ویڈیو میں بڑی تعداد میں لاشیں نظر آتی ہیں اور ایک آواز سنائی دیتی ہے جس کے مطابق لاشوں کی تعداد 59 ہے۔

شام میں باغی فوجیوں کی تنظیم فری سیرین آرمی کے ایک سرگرم کارکن کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں چند نوجوان بھی شامل تھے۔

انہوں نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ابھی بھی بہت ساری لاشیں پانی میں ہیں اور خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد ایک سو تک پہنچ جائے۔

ان لاشوں کو ٹرک کے زریعے منتقل کرنے والے ایک رضاکار کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی شناخت نہیں ہو سکی ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی شناختی دستاویز برآمد نہیں ہوئی ہے۔

بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار جم موئر کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال جولائی میں حلب شروع ہونے والی لڑائی میں ضلع بستان القصر خاصا سرگرم رہا ہے۔

جولائی سے حلب شہر کم و بیش حکومتی سکیورٹی فورسز اور باغیوں کے درمیان تقسیم ہو گیا ہے اور بظاہر مسلسل جھڑپوں کے باوجود کوئی بھی فریق دوسرے کو باہر نکالنے کے قابل نہیں ہے۔

خیال رہے کہ شام میں مارچ سال دو ہزار گیارہ سے جاری تنازع میں اقوام متحدہ کے مطابق ساٹھ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔