جنگ نے حمص کی شکل تبدیل کر دی

آخری وقت اشاعت:  منگل 29 جنوری 2013 ,‭ 12:47 GMT 17:47 PST
شام کا شہر حمص

سب سے زیادہ تباہی اور ہلاکتیں اسی شہر میں ہوئی ہیں۔

شام کا شہر حمص گزشتہ دو سال سے ملک میں ہونے والے تمام واقعات کا مرکز رہا ہے اور اسے ’انقلاب کا دارلحکومت‘ کہا جاتا ہے۔

ملک کے اس دوسرے بڑے شہر میں اب تک بدترین لڑائیاں دیکھنے میں آئی ہیں اور سب سے زیادہ تباہی اور ہلاکتیں اسی شہر میں ہوئی ہیں۔

حمص میں حزبِ اختلاف کے ٹھکانوں پر حکومت کے حملوں کے بعد یہ شہر ابھی تک حکومت کے کنٹرول میں ہے۔

جمعہ کو بھی حزبِ اختلاف کے ٹھکانوں پر حملوں کو اطلاع موصول ہوئی ہے۔

کسی زمانے میں شام کے مذہبی اور نسلی تانے بانے سے جُڑا ہوا حمص کا خوبصورت معاشرہ اب بکھر کر رہ گیا ہے۔ جسے اب شہر میں فوجی چیک پوسٹوں سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔

لیکن شہر میں اب بھی کچھ علاقے ایسے ہیں جو ابھی تک سنسان ہیں اور جہاں جانا خطرے سے خالی نہیں ہے۔

جہاں عمارتوں کی کھڑکیوں کے ٹوٹے ہوئے شیشے فٹ پاتھ پر اب بھی بکھرے پڑے ہیں اور ان تباہ شدہ عمارتوں اور مکانات سے گذرتے راستے آپ کو شہر کے تاریخی مقامات تک لیجائیں گے جو حمص کا دل کہلائے جاتے تھے جو اب مشکل سے دھڑکتا ہے۔

بے شمار کنبے اب بھی تباہ شدہ علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں جو حزبِ اختلاف کے کنٹرول میں ہیں۔

تاہم حمص کے دوسرے علاقوں میں جو حکومت کے وفادار ہیں وہاں آپ ریسٹوراں میں بیٹھ کر گرما گرم پیزا بھی کھا سکتے ہیں۔

باب آمر کے ضلع میں صدر بشارالسد کے نئے چمکدار بینر کو گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا ہے۔

کچھ لوگ اپنے گھروں کا جانب واپس لوٹ رہے ہیں لیکن یہ علاقہ اب بھی تباہی کا منظر پیش کر رہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔