ٹمبکٹو: ایک داستانوی شہر

آخری وقت اشاعت:  منگل 29 جنوری 2013 ,‭ 12:52 GMT 17:52 PST

ٹمبکٹو کی مساجد اپنے طرزِ تعمیر کے اعتبار سے منفرد ہیں

ٹمبکٹو کا نام سنتے ہی ذہن میں ایک پراسرار، رومانوی اور دیومالائی مقام کا تصور آ جاتا ہے۔

بہت سوں کا تو یہ خیال تھا کہ شاید یہ کسی جغرافیائی مقام نہیں بلکہ کوئی داستانوی نام ہے۔

لیکن آج کل خبروں میں ٹمبکٹو کا نام تواتر سے آنے کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو پہلی بار یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ افریقی ملک مالی کا اینٹ پتھر سے بنا ہوا شہر ہے جہاں ہماری آپ ہی کی طرح کے انسان رہتے ہیں۔

آکسفرڈ ڈکشنری میں ٹمبکٹو کا مطلب لکھا ہوا ہے ایسی جگہ جو بے حد دور افتادہ، دشوار گزار اور دنیا کے دوسرے کونے پر آباد ہو۔ مثال کے طور پر کہا جاتا ہے، ’ارے بھائی، دو ماہ سے تمھارا کوئی اتا پتا نہیں، کہیں ٹمبکٹو تو نہیں چلے گئے تھے؟‘

انگریزی زبان میں یہ لفظ انیسویں صدی میں ان معنی میں استعمال ہونا شروع ہوا۔ اس کے بعد سے الفریڈ ٹینی سن، ڈی ایچ لارنس اور اگاتھا کرسٹی جیسے مشاہیر نے اسے اپنی تحریروں میں استعمال کیا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ٹمبکٹو کا یہ مطلب کیسے پیدا ہو گیا کیوں کہ دنیا میں اس سے بھی زیادہ دور افتادہ اور دشوار گزار جگہیں موجود ہیں؟

ٹمبکٹو شہر کو 12ویں صدی میں طوارق قوم نے آباد کیا تھا۔ یہ شہر سونے اور نمک کے تجارتی قافلوں کی گزرگاہوں کے سنگم پر واقع تھا، اس لیے کچھ ہی عرصے کے بعد یہ پھلنا پھولنا شروع ہو گیا اور تمام علاقے کا سب سے مالدار اور اہم شہر بن گیا۔

اس شہر کی ثروت مندی کے قصے جب یورپ پہنچے تو وہاں کے مہم جوؤں اس تک پہنچنے کے لیے کمربستہ ہو گئے۔

تاہم ٹمبکٹو چوں کہ صحرائے اعظم صحارا کے اندر واقع تھا اس لیے بہت سی مہماتی ٹیمیں یہاں تک پہنچنے میں ناکام رہیں اور صحرا میں بھٹک کر رہ گئیں۔

ٹمبکٹو: پراسراریت کی وجوہات

  • ٹمبکٹو صدیوں تک یورپ کی پہنچ سے باہر رہا
  • اس کی دولت کے قصے دور دور تک مشہور تھے
  • آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی ٹمبکٹو تک پہنچنا آسان نہیں
  • لفظ ٹمبکٹو کی صوتیات ہی ایسی ہیں کہ جس سے ذہن میں ایک عجیب و غریب مقام کا تصور پیدا ہوتا ہے

آکسفرڈ یونیورسٹی کے ایڈیٹر رچرڈ شپیرو کہتے ہیں کہ سب سے پہلے یورپی 1830 میں ٹمبکٹو پہنچے۔ اس سے پہلے یورپ میں صرف اس شہر کا تذکرہ صرف ان مہم جو ٹیموں کے حوالے سے ہوتا تھا جو وہاں پہنچنے میں ناکام رہیں:

’1820 میں لوگ کہتے تھے کہ یہ طرابلس سے 60 دنوں کی مسافت پر واقع ہے جس میں سے چھ دن ایسے آتے ہیں جب پانی دستیاب نہیں ہوتا۔‘

شپیرو کہتے ہیں کہ انگریزوں کا خیال تھا کہ ٹمبکٹو سے انھیں ایسی مال و دولت ملے گی جیسے سپین کو جنوبی امریکہ میں حاصل ہوئی تھی۔ تاہم وہ صدیوں کی کوششوں کے باوجود وہاں پہنچنے میں ناکام رہے اس لیے اس شہر کا مطلب ہی کسی ناقابلِ حصول جگہ کے مترادف ہو گیا۔

ٹمبکٹو وسطی افریقہ میں اسلامی تہذیب کا مرکز رہا ہے۔ یہاں پر جامعہ سنکوری کے نام سے ایک دینی یونیورسٹی قائم تھی جہاں دور دراز سے طلبہ حصولِ علم کے لیے آتے تھے۔

یہاں کی 60 کتب خانوں میں سات لاکھ سے زائد صدیوں پرانی کتب موجود ہیں۔ اس کے علاوہ درجنوں تاریخی عمارات ہیں جن کا طرزِ تعمیر اپنی مثال آپ ہے۔ یونیسکو نے ٹمبکٹو کو عالمی ورثہ قرار دے رکھا ہے۔

2012 کے شروع میں مبینہ طور پر القاعدہ سے وابستہ انصار داعین گروہ نے شہر پر قبضہ کرنے کے بعد کئی تاریخی زیارت گاہوں کو مسمار کر دیا تھا۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ شریعت چھ انچ سے زیادہ ابھری ہوئی قبروں کی اجازت نہیں دیتی۔

منگل کے روز مالی میں فرانس کی سربراہی میں مسلمان شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے والی افواج نے ٹمبکٹو کا محاصرے کے بعد شہر پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔