’اوباما کی امیگریشن پر رائے ہموار کرنے کی کوشش‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 29 جنوری 2013 ,‭ 18:09 GMT 23:09 PST
امریکی صدر براک اوباما

امریکی صدر براک اوباما نے اپنی انتخابی مہم کے دوران غیرقانونی تارکین وطن کو قومی دھارے میں شامل کرنے کا وعدہ کیا تھا

امریکی صدر براک اوباما امیگریشن کے نظام میں اصلاحات کے لیے رائے ہموار کرنے کی کوشش کریں گے۔

یاد رہے کہ ایک روز قبل ہی سینیٹرز کے ایک گروپ نے کہا تھا کہ اصلاحات کے لیے یہ صحیح وقت ہے۔

پیر کو امریکہ کی دونوں اہم جماعتوں حکمران ڈیموکریٹک پارٹی اور حزب اختلاف کی ری پبلکن پارٹی کے بااثر سینیٹرز کے ایک گروپ نے ملک کے امیگریشن کے نظام میں اصلاحات کے لیے ایک مجوزہ منصوبے کی تفصیلات پیش کی تھیں۔

صدر اوباما اپنا منصوبہ لاس ویگاس کے ایک سکول میں پیش کریں گے۔

توقع ہے کہ ان کا یہ منصوبہ سینیٹرز کے منصوبے کی طرز پر ہوگاجس میں ایک کروڑ دس لاکھ سے زیادہ لاپتہ تارکین وطن میں سے زیادہ تر کو شہریت دینے کے نظام کو تیز کرنا شامل ہوگا۔

توقع ہے کہ صدر اوباما کسی نئے قانون کی بات نہیں کرنے والے بلکہ ان تجاویز کی حمایت کریں گے جو پیر کو سینیٹرز کی جانب سے پیش کی گئیں۔

اس منصوبے کے تحت سرحدوں کی حفاظت کے انتظامات مزید سخت کرنے اور غیرقانونی تارکین وطن کو ملازمتیں دینے کے رجحان کو ختم کرنے کے لیے سخت اقدامات کی تجویز دی گئی ہے۔

منصوبے میں امریکہ میں مقیم ایک کروڑ سے زیادہ غیر قانونی تارکین وطن کو امریکی شہریت دینے کے لیے ضروری اقدامات کیے جانے کے بارے میں بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر براک اوباما نے اپنی انتخابی مہم کے دوران غیرقانونی تارکین وطن کو قومی دھارے میں شامل کرنے کا وعدہ کیا تھا اور شاید یہی وجہ تھی کہ ان کے دوبارہ صدر منتخب ہونے میں تارکین وطن کے ووٹ نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

دوسری جانب ری پبلکن پارٹی جسے ناقدین کے بقول بڑی حد تک مقامی امریکیوں کے مفادات زیادہ عزیز رہے ہیں، اس کا اتنی بڑی تعداد میں غیرقانونی تارکین وطن کو امریکی شہریت دینے پر مشروط طور پر ہی صحیح لیکن رضامند ہو جانا بہت اہم ہے۔

سینیٹر چارلس نے پیر کو ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ دونوں جماعتوں کے سینیٹرز کی جانب سے پیش کیا جانے والے منصوبے کو امریکی سینیٹ کے سامنے موسم بہار کے سیشن کے اختتام یا گرمی کے آغاز تک پیش کیا جائے گا۔

دوسری جانب متعدد قدامت پسندوں سینیٹرز نے اس منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ غیر قانونی تارکین وطن اور قانون شکنوں کو عام معافی دینے کے برابر ہے۔

ری پبلکن سینیٹر جان میکین نے نیوز کانفرنس کو بتایا کہ اگرچہ یہ اصلاحات بہت مشکل ہیں تاہم قابلِ حصول ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔