مالی: فرانسیسی افواج کدال میں داخل

آخری وقت اشاعت:  بدھ 30 جنوری 2013 ,‭ 10:34 GMT 15:34 PST

اگست 2012 میں کدال ایئرپورٹ جو اس وقت انصار داعین کے قبضے میں تھا

مالی میں موجود فرانسیسی افواج کا کہنا ہے کہ وہ ملک کے شمالی حصے میں اسلامی شدت پسندوں کے خلاف آخری قصبے کدال میں داخل ہو گئی ہیں۔

فرانسیسی فوج کے ترجمان کرنل ٹائری برخدرد نے کہا ہے کہ فرانسیسی فوج کو رات کے وقت کدال میں تعینات کیا گیا۔

ترجمان کے مطابق فرانسیسی جنگی جہاز اور ہیلی کاپٹرز رات کو کدال ایئرپورٹ پر اتارےگئے۔

ایک سکیورٹی ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ فرنسیسی ہوائی جہاز رات کو کدال میں اتر گئے تھے جبکہ ’ہیلی کاپٹرز فضائی گشت پر معمور ہیں‘۔

اطلاعات کے مطابق شدت پسند پہلے سے ہی علاقے سے نکل گئے ہیں تاہم یہ معلوم نہیں کہ قصبے پر کس کا کنٹرول ہے۔

کدال مالی کے دارلحکومت بماکو سے پندرہ سو کلو میٹر کے فاصلے پر ہے جو کہ کچھ عرصہ پہلے تک انصار داعین اسلامی گروپ کے قبضے میں تھا۔ تاہم اسلامک مومنٹ آف ازوان (آئی ایم اے) نے جو حال ہی میں انصار داعین گروپ سے علیحدہ ہو گیا تھا، دعویٰ کیا ہے کہ کدال پر ان کا کنٹرول ہے۔

آئی ایم اے کے ایک ترجمان نے کدال میں فرانسیسی فوج کی آمد کی تصدیق کی اور کہا کہ ان کے رہنما فرانسیسی فوجیوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔

آئی ایم اے نے کہا ہے کہ انہوں نے ’شدت پسندی اور دہشت گردی‘ رد کر دی ہے اور مسائل کا پر امن حل چاہتے ہیں۔

فرانسیسی فوج کدال میں ٹمبکٹو پر کنٹرول حاصل کرنے کے چوبیس گھنٹے بعد کدال میں پہنچے

مالی کے نیشنل موممنٹ فار لیبریشن آف ازواد(ایم این ایل اے) نے بھی کہا ہے کہ وہ ’دہشت گرد گروپوں کے خاتمے‘ کے لیے فرانسیسیوں کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔لیکن انہوں نے کہا کہ وہ مالی کے فوج کو علاقے میں نہیں آنے دیں گے اور وہ مالی فوج پر عام شہریوں کے خلاف جرائم میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔

فرانسیسی اور مالی کے فوجیں تیزی سے شمالی مالی کو کنٹرول میں لے رہے ہیں اور انہوں نے گاؤ اور ٹمبکٹو کو پہلے سے اپنے قبضے میں کر لیا ہے۔

فرانسیسی فوج کدال میں ٹمبکٹو پر کنٹرول حاصل کرنے کے چوبیس گھنٹے بعد کدال میں پہنچے۔

دوسری طرف کدال میں سینکڑوں کی تعداد میں افراد نے دکانوں کو لوٹا جس کے بعد فوجیوں کو شہر میں امن وامان بھی قائم کرنا پڑا۔

اسلامی شدت پسندوں نے گذشتہ مارچ میں مالی میں فوجی بغاوت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک شمالی علاقوں میں شہروں پر قبضہ کرکے وہاں پر اسلامی شریعی نظام نافذ کیا تھا۔

فرانس کی کوشش ہے کہ مالی میں جلد افریقی یونین کی فوج تعینات ہو۔

یاد رہے کہ ایتھیوپیا میں عطیہ دینے والوں کی بین الاقوامی کانفرنس نے منگل کو مالی میں اسلامی شدت پسندوں سے نمٹنے کی عالمی مہم کے لیے 455 ملین ڈالر دینے کا عہد کیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔