نیویارک ٹائمز کی ویب سائٹ پر ’چینی ہیکرز کا حملہ‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 31 جنوری 2013 ,‭ 09:43 GMT 14:43 PST

اخبار کے مطابق ہیکنگ کے طریقہ کار سے ایسا لگتا ہے کہ یہ چینی فوج کا کام ہے

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ گذشتہ چار ماہ سے چین کے بعض ہیکرز کی جانب سے اس کی سائٹ میں مستقل دخل اندازی کی جاتی رہی ہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ اس کی سائٹ پر یہ حملے چینی وزیراعظم وین جیا باؤ کے خاندان کی جانب سے اربوں کی دولت بٹورنے سے متعلق ایک رپورٹ تیار کرنے کے وقت سے ہی ہو رہے ہیں۔

اخبار کا کہنا ہے کہ ہیکرز نے رپورٹروں اور نامہ نگاروں کی ای میلز کو نشانہ بنانے کے لیے وہی طریقے استعمال کیے جو ’چینی فوج سے وابستہ رہے ہیں۔‘

اخبار کے مطابق ہیکرز پہلی بار ستمبر میں ان کے کمپیوٹر سسٹم تک پہنچے جب وین جیا باؤ سے متعلق ان کی رپورٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں تھی۔

وین جیا باؤ کے خاندان سے متعلق اخبار نے جو رپورٹ شائع کی تھی اس میں تقریبا پونے تین ارب ڈالر کی دولت تجارت کے ذریعے کمانے کی بات کہی گئي تھی اور اس میں جیا باؤ پر کوئی غلطی کرنے کا الزام عائد نہیں کیا گيا تھا۔

چین کی حکومت نے وین جیا باؤ سے متعلق نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کو بدنام کرنے کی مہم بتا کر مسترد کردیا تھا۔

تاہم چین کی وزارت دفاع نے اخبار کو بتایا ہے کہ چینی قوانین کے مطابق ہیکنگ غیر قانونی عمل ہے۔

نیو یارک ٹائمس کا کہنا ہے کہ شنگھائی میں اخبار کے بیورو چیف ڈیوڈ بار بوزا، جنہوں نے رپورٹ تیار کی تھی، اور سابق بیورو چیف جم یارڈلی کے کمپیوٹرز کو خاص طور پر نشانہ بنایا گيا۔

اخبار نے ہیکنگ کو ٹریک کرنے کے لیے مینڈینٹ نامی انٹرنیٹ کمپنی کی خدمات حاصل کیں جس نے ہیکرز کو بلاک کرنے کے لیے چار ماہ تک ان کا پیچھا کیا۔

بڑی کوشش کے بعد اس کمپنی کو پتہ چلا کہ حملے کو چھپانے کے لیے اس کے راؤٹر کو امریکی یونیورسٹیز کے کمپیوٹروں سے جوڑا گيا تھا۔

"اگر آپ ہر حملے کو الگ الگ کر دیکھں تو آپ یہ نہیں کہہ سکتے یہ چین کی فوج کا کام ہے، لیکن حملوں کے طریقہ کار میں پائی جانے والی مماثلت اور حملوں کے نشانے پر غور کریں تو اس میں ربط ملے گا۔"

اخبار کا کہنا ہے کہ اس کمپنی نے ہیکنگ کے معاملے کے جو پہلے کیسز حل کیے تھے اس میں بھی وہی طریقہ استعمال کیا گيا تھا جو چین کی جانب سے ہیکنگ کے لیے پہلے استعمال کیےگئے تھے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ ماہرین کو پتہ چلا ہے کہ حملے کا آغاز انھی یونیورسٹی کمپیوٹروں سے ہوئي جو ماضي میں چین کے فوجیوں نے امریکی فوج کے کنٹریکٹرز پر حملے کیے لیے استعمال کیے تھے۔

مینڈینٹ کے سکیورٹی آفیسر رچرڈ بیجلچ کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ ہر حملے کو الگ الگ کر دیکھیں تو آپ یہ نہیں کہہ سکتے یہ چین کی فوج کا کام ہے، لیکن حملوں کے طریقہ کار میں پائی جانے والی مماثلت اور حملوں کے نشانے پر غور کریں تو اس میں ربط ملے گا۔‘

لیکن اخـار کا کہنا ہے کہ ہیکنگ کے ان واقعات سے اس کو کوئي ڈیٹا چوری نہیں کیا گيا اور نہ ہی اس کی سائٹ کو پوری طرح سے بند کرنے کی کوشش کی گئی۔

لیکن چین کی فوج کی جانب سے اخبار کو بتایا گيا ہے کہ ’ہیکنگ سمیت انٹرنیٹ کی کسی بھی طرح کی سکیورٹی توڑنا قانوناً جرم ہے اور بغیر کسی ثبوت کے اس طرح کے سائبر حملوں کا الزام چینی فوج پر لگانا غیر پیشہ ور طریقہ اور بے بنیاد بات ہے۔‘

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔