عالمی یومِ حجاب

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 1 فروری 2013 ,‭ 16:17 GMT 21:17 PST

حجاب کا عالمی دن منانے کا مقصد اس کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی ایک کوشش ہے

حجاب کا عالمی دن غیر مسلم خواتین کو روایتی حجاب پہن کر زندگی بسر کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ کیا اس سے مذید مذہبی برداشت پیدا ہو گی؟

برطانیہ کی نوروچ یونیورسٹی کی اکیس سالہ طلباء جیسی روڈز کا کہنا ہے’ میں ہمیشہ حجاب پہننے کی کوشش کرتی ہوں تاہم میرے خیال میں ایک غیر مسلم عورت ہونے کی وجہ سے یہ ایک آپشن نہیں ہے‘۔

انہوں نے بتایا جب ان کی دوست نے انہیں حجاب پہننے کا موقع فراہم کیا تو اس کے بعد انہوں نے اس کا استعمال شروع کیا۔

جیسی روڈز کے مطابق ان کی دوست نے انہیں اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ حجاب استعمال کرنے کے لیے مسلمان ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور ظاہری طور پر اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

جیسی روڈز ان ہزاروں غیر مسلم خواتین میں سے ایک ہیں جو یکم فروری کو حجاب کے پہلے عالمی دن کے موقع پر حجاب پہنیں گی۔

حجاب استعمال کرنے کی تحریک کی ابتدا نیویارک کی ایک خاتون ناظمہ خان نے کی جن کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے۔

انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹس کے ذریعے اس تحریک کو منظم کیا جس نے پوری دنیا کے پچاس ممالک کی مسلم اور غیر مسلم خواتین کو متاثر کیا۔

متعدد افراد کے لیے حجاب ظلم و ستم اور تقسیم کا نشان ہے اور مغربی ممالک میں حجاب اسلام کے بارے میں بحث کا ایک آسان ہدف سمجھا جاتا ہے۔

حجاب کا عالمی دن منانے کا مقصد اس کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی ایک کوشش بھی ہے۔

حجاب غیر مسلم خواتین کے علاوہ ایسی مسلم خواتین جو عام طور پر اس کا استعمال نہیں کرتیں کے لیے بھی ایک حوصلہ افزائی کا موقع ہے۔

حجاب کی تحریک منظم کرنے والی ناظمہ خان نے بتایا کہ جب وہ گیارہ برس کی عمر میں بنگلہ دیش سے نیویارک آئیں تو حجاب استعمال کرنے کی وجہ سے ان کے ساتھ برا سلوک روا رکھا گیا۔

ان کے مطابق جب وہ نیویارک کے سکول میں پڑھتی تھیں تو انہیں ’حجابی لڑکی‘ کہا جاتا تھا، جب وہ مڈل سکول میں تھیں تو انہیں ’بیٹ مین‘ یا ’ننجا‘ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔

ناظمہ خان نے بتایا کہ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے بعد جب وہ کالج پہنچیں تو انہیں ’اسامہ بن لادن‘ یا ’دہشت گرد‘ کہا جاتا تھا۔

ناظمہ خان کو اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ ان کی اس مہم کو پوری دنیا کی حمایت حاصل ہو جائے گی۔

ناظمہ خان کا کہنا ہے کہ برطانیہ، آسٹریلیا، بھارت، پاکستان، فرانس اور جرمنی میں موجود درجنوں افراد نے ان سے رابطہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ جیسی روڈز اور ان کی دوست ودیان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک کے ذریعے اپنے دوستوں کو اس مہم میں شریک ہونے کا کہا۔

جیسی روڈز کا کہنا ہے کہ ان کے والدین نے اس آئیڈیا کو پسند کیا جس کے بعد انہوں نے ایک ماہ کے لیے حجاب پہننے کا فیصلہ کیا۔

جیس روڈز کے مطابق ان کے والدین اس بات پر فکر مند تھے کہ حجاب استمعال کرنے سے ان پر حملہ ہو سکتا ہے۔

روڈز خود بھی حجاب استمعال کرنے کے حوالے سے فکر مند تھیں تاہم حجاب کے مسلسل آٹھ روز استعمال سے انہیں اس کے مثبت پہلوؤں کا پتہ چلا۔

امریکی ریاست کیلی فورنیا کی اٹھائیس سالہ غیر مسلم خاتون ایستھر ڈیل حجاب کے عالمی دن پر حجاب استعمال کریں گی۔

تین بچوں کی والدہ کو ان کی دوست نے حجاب کے عالمی دن کے بارے میں آگاہ کیا۔

ڈیل کو حجاب کی اہمیت کا احساس ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حجاب کا عالمی دن منانے کا مقصد لوگوں کو اس کے بارے میں درست فیصلہ کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

حجاب کا عالمی دن منانے والے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ حجاب کے ساتھ استعمال ہونے والے لفظ ’محکوم‘ سے تنگ آ چکے ہیں۔

منتظمین نے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ خواتین اپنے خاندان والوں کے اصرار پر حجاب استعمال کرتی ہیں۔

ان کے مطابق حجاب کا عالمی دن منانے کا مقصد دنیا کو یہ باور کروانا ہے کہ خواتین حجاب کا استعمال اپنی مرضی سے کرتی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔