روس: شامی باغی رہنما کو دورے کی دعوت

آخری وقت اشاعت:  اتوار 3 فروری 2013 ,‭ 22:07 GMT 03:07 PST

شامی حزبِ اختلاف کے سربراہ معاذ الخطیب

روس نے شام کے حزبِ اختلاف کے سربراہ کے ساتھ روسی وزیرِ خارجہ کی ملاقات کے بعد انھیں ماسکو میں براہِ راست مذاکرات کی دعوت دی ہے۔

سرگئی لاوروف اور شامی قومی اتحاد کے سربراہ معاذ الخطیب کے درمیان جرمنی کے شہر میونخ میں ایک بین الاقوامی سکیورٹی کونسل کے اجلاس کے موقعے پر ملاقات ہوئی تھی۔

روس شامی صدر بشارالاسد کا دیرینہ حمایتی ہے۔

اس کے بعد لاوروف نے امریکی نائب صدر جو بائڈن اور اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی لخضر ابراہیمی سے بھی ملاقات کی۔

بائڈن نے کانفرنس کو بتایا کہ یہ بات کوئی ’راز‘ نہیں ہے کہ روس اور امریکہ کے درمیان شام کے مسئلے پر ’سنگین اختلافات‘ موجود ہیں۔

تاہم انھوں نے مزید کہا، ’ہم سب شامی عوام کی مشکلات اور انھیں دور کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری کی ذمے داری پر اتفاق کر سکتے ہیں۔‘

لاوروف سے ملاقات کے بعد معاذ الخطیب نے کہا، ’روس کا ایک مخصوص نقطۂ نظر ہے لیکن ہم اس بحران کے حل کے لیے مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ بہت سی ایسی تفصیلات ہیں جن پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔‘

میونخ میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن مارکس کا کہنا ہے کہ اگر شام میں بحران کے حل کے لیے اقوامِ متحدہ کی زیرِ نگرانی کوئی سفارتی کوشش ہوتی ہے تو اس ضمن میں روس اور امریکہ میں مفاہمت بہت ضروری ہے۔

تاہم ہمارے نمائندے کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک میں اب بھی اس معاملے پر دوریاں موجود ہیں۔

روسی وزیرِ خارجہ نے کانفرنس میں کہا کہ بائڈن کا یہ اصرار کہ شامی قیادت مستعفی ہو جائے، نقصان دہ ہے۔

انھوں نے کہا، ’میں سمجھتا ہوں کہ شام کے بحران کی سب سے بڑی وجہ لوگوں کا یہ اصرار ہے کہ سب سے پہلی ترجیح صدر اسد کا معزولی ہے۔‘

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ 22 ماہ قبل صدر اسد کے خلاف شروع ہونے والی بغاوت کے نتیجے میں اب تک 60 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔