امریکہ کے ’خطرناک ترین سنائپر‘ کا قتل

آخری وقت اشاعت:  اتوار 3 فروری 2013 ,‭ 13:17 GMT 18:17 PST
کرس کائل اپنی اہلیہ کے ساتھ

عراقی باغی کائل کو ’شیطان ‘ تصور کرتے تھے اور ان کے سر پر بیس ہزار ڈالر انعام رکھا تھا۔

اطلاعات کے مطابق امریکہ کے خطرناک سنائیپر، سابق فوجی اور مصنف کرس کائل کو ٹیکساس میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا ہے۔

سنیچر کو ایک اور شخص کے ساتھ کرس کائل کی لاش برآمد ہوئی۔ اس سلسلے میں ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔

38 سالہ مسٹر کائل کی کتاب ’امیریکن سنائیپر‘ 2012 کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب تھی۔ یہ کتاب جس میں ایک ایسے سنائپر کی نفسیات کی عکاسی کی گئی تھی جو ڈھائی سو لوگوں کو ہلاک کر چکا ہے۔

مسٹر کائل چار مرتبہ عراق میں تعینات ہو چکے تھے اور انہیں کئی مرتبہ بہادری کے تمغے بھی دیے گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کی وجہ واضح نہیں ہو سکی ہے۔

تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کے پانچ گھنٹے بعد ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔

مسٹر کائل ایک سابق ’کو بوائے‘ تھے اور انہیں امریکی تاریخ کا خطرناک ترین سنائیپر کہا جاتا تھا۔

پینٹاگون کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق انہوں نے تقریباً 160 لوگوں کو اپنی بندوق کا نشانہ بنایا تھا لیکن خود مسٹر کائل کے مطابق یہ تعداد 255 تھی۔

فوجی انٹیلی جنس کے مطابق عراقی باغی انہیں ’شیطان ‘ تصور کرتے تھے اور ان کے سر پر بیس ہزار ڈالر انعام رکھا تھا۔

مسٹر کائل اتنی ہلاکتوں کے لیے زرا بھی پشیمان نہیں تھے۔

کئی سال پہلے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ ’میں نے جتنے بھی لوگ مارے ہیں ان کے بارے میں میرا خیال تھا کہ وہ بُرے لوگ تھے۔‘

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔