ایران امریکہ سے براہ راست مذاکرات پر تیار

آخری وقت اشاعت:  اتوار 3 فروری 2013 ,‭ 16:06 GMT 21:06 PST

ایرانی وزیر خارجہ کا بیان امریکی نائب صدر جو بائیڈن کے بیان کے ردِ عمل میں سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے ایران سے مذاکرات کی بات کی ہے

ایرانی وزیر خارجہ علی اکبر صالحی کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ ایران کے ایٹمی پروگرام کے تناظر میں براہ راست مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

علی اکبر صالحی نے یہ بات جرمنی میں ایک سکیورٹی کانفرنس کے دوران کہی۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم نے بغداد میں امریکہ کے ساتھ کئی بار دو طرفہ مذاکرات کیے ہیں۔ مذاکرات میں ہر موضوع پر بات ہو سکتی ہے۔ اگر مذاکرات کا موضوع ایران کا جوہری پروگرام ہے تو ہاں ہم اس پر بھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ لیکن اس بار ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ دوسری جانب سے مسئلے کے حل کے لیے مربوط لائحہ عمل اختیار کیا جائے‘۔

محمد وزیری، نمائندہ بی بی سی فارسی

محمد وزیری

بنیادی طور پر امریکہ کے ساتھ مذاکرات ایران میں ایک انتہائی نازک معاملہ سمجھا جاتا ہے۔ تو اس معاملے میں میڈیا بھی بات نہیں کر سکتا ہے۔ صرف اقتدار کے اعلیٰ ترین درجوں پر فائز افراد ہی یا خصوصاً ایران کے سربراہ آیت اللہ علی خامنائی ہی ہیں جو بات کر سکتے ہیں۔ میڈیا بغیر کسی قسم کے تبصروں میں پڑے یا رد عمل جاننے کی کوشش کرنے کے بجائے صرف اس خبر کو ایک خبر کے طور پر لے رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ وہ اعلیٰ حکام کی جانب سے احکامات کے منتظر ہیں تاکہ اس پر آگے بڑھ سکیں۔کیونکہ امریکہ کے ساتھ تعلقات ان چند معاملات میں سے ہیں جو وزیر خارجہ سے بھی اوپر کے درجے پر طے کیے جاتے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات کی پالیسی صرف ایران کے سربراہ آیت اللہ علی خامنائی ہی طے کر سکتے ہیں۔ اسی لیے شاید جو بائیڈن نے ایک طرح سے ایران کے سربراہ جانب اشارہ کیا ہے۔

میں ایک بات واضح کر دوں، صالحی نے جو بھی کہا وہ ایک معمول کے ردِ عمل سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے جو اس سے پہلے ماضی میں بھی کیا جا چکا ہے کہ ایران امریکہ کی جانب سے تعلقات کو معمول پر لانے کی تمام کوششوں کو خوش آمدید کہتا ہے۔ یہ سب ہی کہہ رہے ہیں مگر وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ کب، کہاں اور کس نظام کے تحت یہ ممکن ہو سکے گا اور یہ ہوگا کیسے۔

انہوں نے امریکہ کی جانب سے مزید پابندیوں کی دھمکیوں کے حوالے سے مزید کہا کہ ’یہ دونوں متضاد باتیں ہیں کہ ایک جانب تو آپ کہیں کہ ہم ایران کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں اور دوسری جانب آپ دھمکیاں دیں۔ یہ دونوں باتیں ایک دوسرے ساتھ متصادم ہیں۔ اگر امریکہ اچھی نیت کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہے تو ہم بھی اسے سنجیدگی سے لیں گے‘۔

ایران کے وزیر خارجہ کا یہ بیان امریکی نائب صدر جو بائیڈن کے اس بیان کے اگلے دن سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران سنجیدہ ہو تو امریکہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

امریکی نائب صدر نے جرمنی میں ہی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ایران کی قیادت کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور ان مذاکرات کو ہم چھپائیں گے نہیں بلکہ ہم اپنے اتحادیوں کو بھی اس سے آگاہ کریں گے۔ اگر دوسری جانب سے کوئی پیش قدمی دکھائی جاتی ہے تو مذاکرات کی دعوت موجود ہے لیکن وہ سنجیدگی پر مبنی ہونی چاہیے۔ ہم یہ مذاکرات صرف ایک مشق کے طور پر کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘

اسی موضوع پر بات کرتے ہوئے جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے ایران کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ امریکہ کی مذاکرات کی دعوت سے بھر پور فائدہ اٹھائے۔

انہوں نے کہا کہ ’براہ راست مذاکرات پر آمادگی ایران کی جانب بڑھا ہوا ہاتھ ہے اور ہم ایران کی حکومت پر زور دیں گے وہ امریکہ کی اس دعوت کو رد نہ کرے بلکہ اسے قبول کرے۔ اب اس مسئلے کا سفارتی یا سیاسی حل نکالنا بہت اہم ہے‘۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے ایران میں بنائے گئے لڑاکا طیارے کا افتتاح کیا جس کا نام قہر ایف تین سو تیرہ ہے اور یہ اسٹیلتھ صلاحیت رکھنے والے طیارہ ہے۔

"ہم ایران کی قیادت کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور ان مذاکرات کو ہم چھپائیں گے نہیں بلکہ ہم اپنے اتحادیوں کو بھی اس سے آگاہ کریں گے۔"

امریکی نائب صدر جو بائیڈن

صدر احمدی نژاد نے کہا کہ ’ایران کی فوجی استعداد بڑھانے کا مقصد دوسری قوموں کا حق مارنا نہیں ہے۔ یہ توسیع پسندانہ پالیسی نہیں ہے بلکہ یہ کم از کم دفاعی صلاحیت اور استعداد بڑھانے کا وہ حق ہے جو ایرانی قوم کے تحفظ کو یقینی بنانے کا انسانی طریقہ کار ہے، جو کہ ضروری ہے‘۔

ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے یہ بھی بتایا کہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین ممالک امریکہ، چین، روس، فرانس ، برطانیہ اور اس کے علاوہ جرمنی کے مندوبین بھی رواں ماہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کریں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔