فلپائن: ابو سیاف نے دو یرغمالیوں کو رہا کر دیا

آخری وقت اشاعت:  اتوار 3 فروری 2013 ,‭ 05:03 GMT 10:03 PST
فلپائن کے رہا پانے والے یرغمالی

فلپائن کے رہا پانے والے یرغمالیوں کو طبی معائینہ کے لیے ہسپتال لے جایا گیا

فلپائن کے اسلامی گروپ نے گزشتہ سال جون میں اغوا کئے گئے تین میں سے دو افراد کو رہا کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ کہ یہ دونوں افراد فلپائن کے باشندے ہیں اور اردن کے ٹی وی عملے میں شامل تھے۔ جبکہ اردن سے تعلق رکھنے والے رپورٹر اب بھی اغواکاروں کے قبضے میں ہیں۔

خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ رہائی کے بعد دونوں یرغمالیوں کو طبی معائینے کے لیے ہسپتال لے جایا گیا ہے۔

فلپائن کے ایک پولیس آفیسر نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ریمل ویلا اور رولاند لٹریرو کو رہائی کے بعد ملک کے جنوبی صوبے سولو کے ہسپتال لے جایا گیا۔

ان لوگوں کو اس وقت پکڑ لیا گیا تھا جب وہ ابو سیاف گروپ کے شدت پسندوں کے انٹرویو کے لیے نکلے تھے۔

ابو سیاف گروپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا القاعدہ سے تعلق ہے اور جنوبی فلپائن میں ان لوگوں نے کئی غیرملکیوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

واضح رہے کہ سولو صوبے کے بہت سے علاقوں اور صوبے کے دارالحکومت جولو میں باغیوں اور اسلامی شدت پسندوں کا تصرف ہے اور وہ ان کا استعمال اپنے محفوظ ٹھکانوں کے طور پر کرتے ہیں۔

ابو سیاف گروپ کا رکن (فائل فوٹو)

ابو سیاف گروپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا القاعدہ سے تعلق ہے

صوبائی پولیس چیف انٹونیو فریرا نے اے پی کو بتایا کہ ’ان دونوں کا وزن کافی کم ہوگیا ہے کیونکہ وہ ہر دن شدید تناؤ میں رہتے تھے۔‘

کیمرہ مین ویلا اور آڈیو ٹکنیشیئن لٹریرو کو جزیروں والے صوبے کے ایک جنگل میں اس وقت یرغمالی بنالیا گیا تھا جب وہ ابو سیاف گروپ کے لوگوں کا انٹرویو لینے وہاں گئے تھے۔

فریرا نے کہا کہ ان دونوں کے ہمراہ اردن ٹی وی کے رپورٹر عبداللہ عطایانی بھی تھے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ابھی تک اغواکاروں کے قبضے میں ہیں۔

دریں اثنا، آسٹریلیا کے مغوی باشندے وارن راڈویل کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر زندہ دکھایا گیا ہے۔ یہ پوسٹ دسمبر کے مہینے میں ویب سائٹ پر ڈالی گئی تھی جبکہ راڈویل کو دوہزار گیارہ میں اغوا کیا گیا تھا۔

دبلے اور کمزور نظر آنے والے راڈویل نے ویڈیو میں کہا: ’ذاتی طور پر مجھے رہائی کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔‘

ابوسیاف امریکہ میں دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل ہے۔ یہ جنوبی فلپائن میں سب سے چھوٹی شدت پسند تحریک ہے۔

خوراک کی قلت والے اس علاقے میں یہ گروپ سکیورٹی کے لیے خطرہ ہے جہاں کئی دہائیوں سے مسلمان اقلیت خودمختاری کے لیے جدوجہد میں مصروف ہیں۔

واضح رہے کہ فلپائن کی اہم علیحدگی پسند جماعت مورو اسلامک لبریشن فرنٹ نے حال ہی میں وسیع خودمختاری کے لیے حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔