حماس کے بیس ارکان اسرائیلی حراست میں

آخری وقت اشاعت:  پير 4 فروری 2013 ,‭ 09:55 GMT 14:55 PST

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اسرائیل نے حماس کے اراکین کو گرفتار کیا ہو

اسرائیلی فوج نے فلسطینی گروپ حماس کے بیس ارکان کو حراست میں لے لیا ہے جن میں فلسطینی پارلیمان کے تین ارکان بھی شامل ہیں۔

ان افراد کو غربِ اردن میں پیر کو علی الصبح چھاپوں کے دوران گرفتار کیا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کچھ گرفتاریاں کی گئی ہیں تاہم ان کی وجوہات کے بارے میں زیادہ نہیں بتایا گیا۔

حماس کے کئی اہلکاروں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ یہ انتقامی کارروائی لگتی ہے اور یہ گرفتاریاں علی الصبح تمام فلسطینی علاقوں میں کی گئیں۔

حماس کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں سے ایک فلسطینی شخصیت الفتح اور حماس کے درمیان مصالحت کے لیے ہونے والے مذاکرات کی ذمہ دار تھی۔

دو ہزار سات میں حماس کی جانب سے فتح کے ارکان کو غزہ کے علاقے سے باہر نکالے جانے کے بعد فلسطینی منقسم ہیں۔ 2007 کے بعد سے محمود عباس نے غربِ اردن اور حماس نے غزہ پر قبضہ برقرار رکھا ہے۔

اب تک ان دونوں گروہوں کے درمیان ہونے والی تمام مصالحت کی کوششیں بے نتیجہ رہی ہیں۔

اس کے علاوہ دونوں کے درمیان علاقے کو تقسیم کرنے کی کوششیں بھی ناکام رہی ہیں مگر نومبر میں اسرائیل کی غزہ پر جارحیت اور فتح کی جانب سے اقوام متحدہ میں غیر رکن مبصر کا درجہ ملنے کے بعد دونوں کی جانب سے ایک متحدہ محاذ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اسرائیل حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم گردانتا ہے اور اسرائیل حماس کے اراکین پارلیمان کو پہلے بھی کئی بار گرفتار کر چکا ہے جب سے فتح نے دو ہزار چھ کے انتخابات میں فتح کو شکست دی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔