برطانیہ: رچرڈ سوئم کی ہڈیاں برآمد

آخری وقت اشاعت:  پير 4 فروری 2013 ,‭ 13:11 GMT 18:11 PST
انگریز بادشاہ رچرڈ سوئم

تاریخ میں مختلف جگہ ذکر کیا گیا ہے کہ رچرڈ سوئم کی کُبڑ تھیں، اس ڈھانچے کی ریڑھ کی ہذی بھیں ٹیڑی ہے

برطانیہ میں آثار قدیمہ اور تاریخ کے ماہرین نے تصدیق کر دی ہے کہ شمالی شہر لیسٹر میں ایک کار پارک کے نیچے سے برآمد ہونے والا انسانی ڈھانچہ سنہ 1485 کی ایک جنگ میں ہلاک ہونے والے انگریز بادشاہ رچرڈ سوئم کا ہے۔

لیسٹر یونیورسٹی کے ماہرین نے بتایا ہے کہ انہوں نے اس بات کی تصدیق ڈی این اے شواہد کی بنیاد پر کی ہے۔ انہوں نے ان ہڈیوں کے ڈی این اے کا موازنہ رچرڈ سوئم کی بہن کے ایک رشتہ دار سے کیا جن کا ان سے براہ راست نسلی تعلق ہے۔

انگلستان کے بادشاہ رچرڈ سوئم 1485 میں بوسورتھ کے میدان پر لڑئی گئی جنگ میں ہلاک ہوئے تھے۔ شکست کے بعد ان کی لاش کی نمائش کی گئی تھی اور پھر بغیر کسی شاہی اعزاز کے لیسٹر کی ایک کلیسا ’لیسٹر کتھیڈرل‘ میں دفنایا گیا تھا۔ لیکن ایک صدی بعد اس کلیسا کو منہدم کر دیا گیا اور اس بادشاہ کی قبر کی کوئی نشانی نہ رہی۔

جس کار پارک سے یہ ہڈیاں برآمد ہوئیں وہ پرانے کلیسا کے مقام پر بنا تھا۔

ہڈیاں

ہڈیوں کے ڈی این اے کو رچرڈ کی بہن کے ایک براہ راست نسلی رشتہ شار کے ڈی این اے سے ملایا گیا

موت کے وقت رچرڈ سوئم کی عمر بتیس سال تھی۔ اس انسانی ڈھانچے کے عمر کا اندازہ بھی پچیس اور پینتیس سال کے درمیان کے شخص کی لگائی گئی تھی۔ اس کو دس کے قریب دس چوٹیں لگی تھیں جن میں سے آٹھ چوٹیں سر پر لگی تھیں۔

اب ڈی این اے اور کاربن ڈیٹنگ کے جدید طریقوں کی مدد سے یہ تصدیق کردی گئی ہے کہ یہ بادشاہ رچرڈ سوئم کی ہی ہڈیاں ہیں، اور ان کو اب لیسٹر کیتھیڈرل میں دفنایا جائے گا۔

یہ انسانی ڈھانچہ چار مہینے پہلے ملا تھا لیکن سائنسی بنیادوں پر تصدیق کرنے میں اتنا وقت درکار تھا۔

رچرڈ سوئم انگریز پلینٹیجانیٹ شاہی گھرانے کے آخری بادشاہ تھے۔ ان کے بعد انگلستان میں ٹیوڈر گھرانے کا راج رہا۔ رچرڈ سوئم ڈرامہ نویس شیکسپئیر کے ڈرامے ’رچرڈ دا تھرڈ‘ سے بھی کافی مشہور ہوئے۔

برطانیہ میں ایک تنظیم ’رچرڈ دا تھرڈ سوسائٹی‘ کا کہنا ہے کہ اس بادشاہ کو ان کے دشمنوں نے بدنام او ذلیل کیا اور ان کے ہی پروپیگنڈا کی بنیاد پر تاریخ میں ان کی ایک تصویر بنی۔تنظیم کے مطابق اب رچرڈ سوئم کے دور اور شخصیت کا غیر جانبداری سے تاریخی جائزہ لیا جانا چاہیے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔