’اگلے چھ ماہ میں افغان امن معاہدہ‘

آخری وقت اشاعت:  پير 4 فروری 2013 ,‭ 09:33 GMT 14:33 PST

افغانستان اور پاکستان کے صدور، حامد کرزئی اور آصف زرداری، نے برطانیہ میں مذاکرات کے دوران کہا ہے کہ وہ اگلے چھ مہینوں میں افغانستان کے لیے امن کے معاہدے کے حصول کی کوشش کریں گے۔

وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون سے ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے کہا کہ ایسا مقصد حاصل کرنے کے لیے وہ تمام اقدامات اٹھائیں گے۔

برطانیہ کے وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ مذاکرات میں دونوں رہنماؤں نے خلاف معمول حد تک تعاون کا مظاہرہ کیا ہے۔

مذاکرات میں اس بات پر غور کیا گیا کہ پاکستان، افغانستان سرحد پر امن کس طرح قائم کیا جا سکے۔

صدر کرزئی نے طالبان رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ امن کے عمل میں شرکت کریں تاکہ بقول ان کے ہر کوئی افغانستان کے مستقبل کی تعمیر میں حصہ لے سکے۔

رہنماؤں نے دوہا میں ایک دفتر کھولنے پر رضامندی ظاہر کی تاکہ طالبان اور افغان حکام کے درمیان ملاقاتیں ہو سکیں۔

افغانستان، پاکستان اور برطانیہ کے درمیان افغانستان میں امن عمل پر اہم سہ فریقی مذاکرات کا باقاعدہ آغاز پیر سے لندن میں ہوگیا ہے۔

ان مذاکرات میں افغانستان اور پاکستان کے صدور اور برطانوی وزیراعظم اپنے وفود کے ہمراہ شرکت کر رہے ہیں۔

گزشتہ موسمِ گرما کے بعد یہ تیسرا موقع ہے کہ تینوں ممالک ان مذاکرات میں شرکت کر رہے ہیں جن کا مقصد خطے میں توازن کو فروغ دینا ہے۔

تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ اس بات چیت میں پاکستان اور افغانستان کی افواج اور خفیہ اداروں کے سربراہان بھی شریک ہیں اور بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان کی شرکت مفاہمتی عمل کے حساس ترین پہلوؤں سے نمٹنے میں مدد دے گی۔

ان سہ فریقی مذاکرات کے عمل کا آغاز برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کیا تھا جس کا مقصد غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان میں تینوں ممالک کے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار تھا۔

یاد رہے کہ دو ہزار چودہ میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلاء ہوگا جس کے بعد کی صورتحال پر مختلف سطح پر مذاکرات کا عمل جاری ہے۔

عالمی امور کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار مائیک وولرج کا کہنا ہے کہ پاکستان کو افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلاء کے بعد کی صورتحال پر شدید تحفظات ہیں اور اب جبکہ انخلاء کی تاریخ قریب آ رہی ہے یہی چیز ان مذاکرات کا کلیدی نکتہ ہوگی۔

برطانوی وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ نے کہا ہے کہ ان مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے باہمی تعاون کا فروغ ہے۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے پاکستان اور افغانستان کے صدور کے اعزاز میں شمالی لندن میں واقع اپنی رہائش گاہ پر اتوار کی رات عشائیہ دیا۔

"سہ فریقی مذاکرات طالبان کو ایک واضح پیغام بھجواتے ہیں کہ اب ہر ایک لیے افغانستان میں پر امن سیاسی عمل میں حصہ لینے کے لیے مذاکرات میں شرکت کا مناسب موقع ہے۔"

برطانوی وزیراعظم

برطانوی وزیر اعظم کے دفتر ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سہ فریقی مذاکرات طالبان کو ایک واضح پیغام بھجواتے ہیں کہ اب ہر ایک لیے افغانستان میں پر امن سیاسی عمل میں حصہ لینے کے لیے مذاکرات میں شرکت کا مناسب موقع ہے‘۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’جیسے کہ (برطانوی) وزیراعظم ماضی میں بھی کہہ چکے ہیں کہ ایک مستحکم افغانستان صرف افغانیوں کے ہی نہیں بلکہ ان کے ہمسایوں اور برطانیہ کے مفاد میں بھی ہے۔‘

افغان صدر حامد کرزئی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اب جبکہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلاء ہونے والا ہے وہ ان غلطیوں کو نہیں دہرانا چاہتے جو ربع صدی قبل روس کے افغانستان سے انخلاء کے موقع پر وقوع پذیر ہوئیں اور جنہوں نے ملک کو خانہ جنگی کی جانب دھکیل دیا تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق ان مذاکرات میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان بداعتمادی کی فضا کا خاتمہ بھی ایک اہم معاملہ رہے گا۔

افغان حکومت نے اپنی جانب سے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ وہ پاکستان کی جانب سے بہت سے طالبان جنگجوؤں کی رہائی کو ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھتے ہیں۔

لیکن افغان حکام ملا برادر کی رہائی چاہتے ہیں جو کہ افغان طالبان کے سابق نمبر دو کمانڈر رہے ہیں جس سے افغان حکام کو امید ہے ان کی سطح کے ایک اعلیٰ طالبان اہلکار کی مدد سے طالبان کو کابل میں جاری مذاکرات میں شریک کرنے میں مدد ملے گی۔

اتوار کو افغان صدر کرزئی نے بی بی سی پشتو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغان عوام کو امن کے عمل کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہیے اور انہوں نے کہا کہ ’نہ ہی کمیونسٹ حکومت اور نہ مجاہدین افغانستان کو امن اور تحفظ فراہم کر سکے اگر ہم اپنے امن عمل کا خود انتظام نہیں کرتے جیسا کہ ہم نے ماضی میں کی تو پھر ہم کبھی بھی استحکام حاصل نہیں کر پائیں گے‘۔

"نہ ہی کمیونسٹ حکومت اور نہ مجاہدین افغانستان کو امن اور تحفظ فراہم کر سکے اگر ہم اپنے امن عمل کا خود انتظام نہیں کرتے جیسا کہ ہم نے ماضی میں کی تو پھر ہم کبھی بھی استحکام حاصل نہیں کر پائیں گے۔"

افغان صدر حامد کرزئی

واضح رہے کہ یہ تیسرا سہ فریقی اجلاس ہے۔ اس سے پہلے گذشتہ سال جولائی میں کابل میں اور ستمبر میں نیو یارک میں سہ فریقی اجلاس منعقد کیے گئے تھے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے افغانستان اور پاکستان کی فوجی قیادت نے افغانستان سے اتحادی افواج کے انخلا کو ’پر امن اور تشدد سے پاک‘ رکھنے کے لیے بعض اہم نکات پر اتفاق کیا تھا۔

یہ اتفاق دونوں ملکوں کی فوجی قیادت کے درمیان اعلیٰ سطح کے جامع اور سٹریٹیجک مذاکرات کے دوران حاصل کیا گیا تھا جو جنوری کے آخری ہفتے میں پاکستانی فوج کے صدر دفتر (جی ایچ کیو) میں ہوئے تھے۔

ان مذاکرات سے واقف ایک سینئر فوجی افسر نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ دونوں وفود کے درمیان امریکی انخلا کے پس منظر میں بعض بنیادی نوعیت کے معاملات پر بات چیت ہوئی تھی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات میں امریکی انخلا کے بعد پاک افغان سرحد پر دونوں ملکوں کے مشترکہ کنٹرول، دونوں ملکوں کے سرحدی محافظوں کے درمیان مضبوط روابط، افغان امن عمل میں پاکستانی کردار، دونوں ملکوں کے درمیان فوجی تربیت کے معاہدے اور سرحدی علاقوں میں سماجی اور معاشی ترقی کے معاملات شامل تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔