کیا لادینیت ایک مذہب بنتا جا رہا ہے؟

آخری وقت اشاعت:  منگل 5 فروری 2013 ,‭ 15:13 GMT 20:13 PST

برطانیہ کے علاقے نارتھ لندن میں ’لادین چرچ‘ کافی مقبول ہو رہا ہے۔ کیا لادینیت ایک نیا مذہب بنتا جا رہا ہے؟

لیکن اس چرچ میں جو خطبہ دیا جاتا ہے اس میں یہ پیغام نہیں ہوتا کہ ہم سب مرنے والے ہیں اور اور موت کے بعد کوئی دنیا نہیں ہے۔

لیکن اتوار کے روز جو چرچ سروس ہوئی وہ کوئی عام سروس نہیں تھی۔

ایک ماہ قبل شروع ہونے والے اس چرچ کے منتظم سینڈرسن جونز ہیں۔ اس سروس میں تقریباً تین سو افراد نے شرکت کی۔ان افراد کی اکثریت سفید فام، نوجوان اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والوں کی تھی۔

اتوار کی سروس میں شریک لادینی افراد سٹیوی ونڈر اور کوئن کے گانوں پر جھومے۔ اس کے علاوہ مشہور کہانی ’ایلس ان دی ونڈرلینڈ‘ کا مطالعہ کیا گیا اور فزیکس کے ماہر ڈاکٹر ہیری کلف نے پاور پوائنٹ بریفنگ دی۔

لیکن اس سروس میں سنجیدہ موقعے بھی تھے جیسے کہ سینڈرسن جونز نے اپنی والدہ کی موت اور اس نے کیسے ان کا زندگی کے بارے میں نظریہ تبدیل کیا کہ یہ زندگی بہت چھوٹی ہے اس لیے ہر سیکنڈ سے لطف اٹھاؤ کیونکہ اس کے بعد کچھ نہیں ہے۔

فوٹوگرافر جیس بونہیم کا کہنا ہے ’یہ ایک اچھا طریقہ ہے کہ ایک جگہ جمع ہوں لیکن بغیر کسی مذہب کے۔ یہ چرچ نہیں ہے بلکہ لادین افراد کا مجمع ہے۔‘

انگلینڈ اور ویلز میں جن افراد نے اپنے آپ کو لادین قرار دیا ہے ان کی تعداد اب 14.1 ملین ہو چکی ہے۔

اس تعداد کے لحاظ سے مغربی دنیا میں انگلینڈ اور ویلز سب سے زیادہ لادین ملک بن گیا ہے۔

مذہب بن جانے کا خدشہ

لادینی افراد کو خدشہ ہے کہ لادینیت ایک مذہب بنتا جا رہا ہے جس کے اپنے کوڈ ہیں اور پادری۔

تاہم سینڈرسن جونز کا کہنا ہے کہ وہ اس کو ایک نیا مذہب نہیں بنا رہے۔

لادینی افراد کو خدشہ ہے کہ لادینیت ایک مذہب بنتا جا رہا ہے جس کے اپنے کوڈ ہیں اور اپنے پادری۔

تاہم سینڈرسن جونز کا کہنا ہے کہ وہ اس کو ایک نیا مذہب نہیں بنا رہے۔

چرچ سروس میں موجود آرکیٹیکٹ روبی ہیرس کا کہنا ہے ’یہ ایک منظم مذہب بن جائے گا۔ یہ تو ہونا ہی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اگر اتوار کی سروس اتنی ہی مقبول رہی تو جونز اور شریک بانی ایونز پر بہت بڑی ذمہ داری آجائے گی۔ ’عین ممکن ہے کہ یہ ایک کلٹ کی شکل اختیار کر جائے اور اس سب کا محور ایک شخص ہو جائے۔‘

سروس میں موجود سارہ ایسپینل کا کہنا ہے ’جونز کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو سینٹر سٹیج پر نہ لے کر آئیں اور آہستہ آہستہ پیچھے ہٹ جائیں اور دوسرے لوگوں کو آگے لائیں۔‘

دوسری جانب جونز کا کہنا ہے کہ یہ ابھی ابتدائی دن ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ اس سروس میں وہ اپنے آپ کو کم لائیں گے اور سروس میں شریک افراد کو زیادہ موقع دیا جائے گا۔

لادینیوں کے چرچ کی اتوار کی سروس ساتھ ہی سینٹ جوڈ اور سینٹ پالز چرچ سے کہیں زیادہ کامیاب تھی جہاں صرف تیس عیسائی موجود تھے۔

لیکن بشپ ہیریسن جو پچھلے تیس سال سے تبلیغ کا کام کر رہے ہیں کا کہنا ہے کہ ان کو اپنے ہمسائے چرچ سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لادینیوں کا بھی سفر آخر میں ان کو خدا کی جانب لے آئے گا۔

’ان کو کہیں سے تو ابتدا کرنی ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔