’ڈرون حملوں میں امریکی شہری مارنے کا قانونی جواز ہے‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 6 فروری 2013 ,‭ 20:30 GMT 01:30 PST

امریکہ کے محکمۂ انصاف کے ایک میمو سے معلوم ہوا ہے کہ امریکی حکومت کے پاس اپنے شہریوں کو ہلاک کرنے کے لیے ڈرون حملوں کا قانونی جواز ہے۔

این بی سی نیوز کو موصول ہونے والے اس میمو کے مطابق اگر امریکی شہری ’فوری خطرے‘ کی تعریف پر پورے اترتے ہوں تو ان کے خلاف بھر پور طاقت کا استعمال قانونی تصور ہوگا۔

اس دستاویز کے مطابق اگر امریکی شہری القاعدہ یا اسے کے اتحادیوں کے رہنما ہوں تو امریکی حکام بیرونی ممالک میں ان شہریوں کو ڈرون حملوں کے ذریعے ہلاک کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔

پاکستان اور یمن میں مشتبہ شدت پسندوں کے خلاف امریکی ڈرون حملے انتہائی متنازع ہیں۔

صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے القاعدہ کے شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کے لیے ڈرون حملوں کے استعمال کو وسیع کیا ہے اور امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ عالمی قانون کے مطابق اپنے دفاع میں ایسا کرتا ہے۔

تاہم ڈرون حملوں کے ناقدین کہتے ہیں کہ ان سے نہ صرف عام شہری بڑی تعداد میں ہلاک ہوتے ہیں بلکہ یہ حملے لوگوں پر مقدمہ چلائے بغیر انہیں مار دینے کے مترادف ہیں۔

سولہ صفحات پر مبنی محکمۂ انصاف کے وائٹ پیپر کو این بی سی نیوز نے شائع کیا ہے جس میں تسلیم شدہ جنگی علاقوں کے باہر ڈرون حملوں کے استعمال کے جواز کی تفصیل ہے۔

"اس میمو سے امریکی حکومت کے مرکزی دعوے کی غفلت اور لاپرواہی اور حکومت کے ڈرون حملوں کی پالیسی میں پائی جانے والی کمزوریوں کا پتہ چلتا ہے"

اے سی ایل یو کے قانونی ڈپٹی ڈائریکٹر جمیل جعفر

دستاویز کے مطابق اگر وہ ملک جس کی سر زمین پر ڈرون حملہ کیا جائے، ڈرون حملے پر راضی ہو یا نشانہ بنائے جانے والے فرد سے پیدا ہونے والے خطرے کو روکنے سے قاصر ہو یا اسے روکنے پر رضا مند نہ ہو تو ڈرون حملہ اس ملک کی خود مختاری کی خلاف ورزی تصور نہیں ہوگا۔

دستاویز کے مطابق امریکی شہریوں کی ہلاکت امریکی آئین کی خلاف ورزی نہیں ہوگی اگر:

امریکی حکومت کا اعلیٰ سطح کا کوئی باخبر اہلکار یہ تعین کر لے کہ جس شخص کو نشانہ بنایا جانا ہے وہ امریکہ کے خلاف فوری طور پر سنگین خطرے کا باعث ہے۔

وائٹ پیپر کے مطابق عدالتوں کے پاس اس طرح کے فیصلوں پر نظرِ ثانی کرنے یا انھیں کنٹرول کرنے کا کردار ادا نہیں کرنا چاہیے۔

ناقدین کی رائے

ڈرون حملوں کے ناقدین کہتے ہیں کہ ان سے نہ صرف عام شہری بڑی تعداد میں ہلاک ہوتے ہیں بلکہ یہ حملے لوگوں پر مقدمہ چلائے بغیر انہیں مار دینے کے مترادف ہیں۔

امریکہ میں شخصی آزادیوں کی یونین (اے سی ایل یو) نے اس دستاویز کو حیرت انگیز قرار دیا ہے۔

ادارے کے قانونی ڈپٹی ڈائریکٹر جمیل جعفر نے اپنے بلاگ میں لکھا ہے کہ ’اس میمو سے امریکی حکومت کے مرکزی دعوے کی غفلت اور لاپرواہی اور حکومت کے ڈرون حملوں کی پالیسی میں پائی جانے والی کمزوریوں کا پتہ چلتا ہے‘۔

انھوں نے کہا ’ امریکہ کے لیے خطرہ فوری نہ بھی ہو یا نشانہ بننے والے شخص پر کبھی مقدمہ نہ بھی چلا ہو یا اسے اپنے خلاف الزامات سے آگاہ نہ بھی کیا گیا ہو، تو بھی امریکہ کا ڈرون حملوں کا یہ وسیع اختیار ختم نہیں ہوتا۔ تب بھی نہیں اگر ڈرون حملوں کا ہدف کسی میدانِ جنگ کے پاس نہ بھی پایا جائے‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔