مصر میں احمدی نژاد پر جوتا پھینکنے کی کوشش

آخری وقت اشاعت:  بدھ 6 فروری 2013 ,‭ 11:32 GMT 16:32 PST
احمدی نزاد

ایران کے صدر مصر کے دورے پر ہیں

مصر کے سیکورٹی اہلکاروں نے اس شخص کو حراست میں لے لیا ہے جس نے دارلحکومت قاہرہ میں الحسین مسجد کے دورے سے واپسی پر ایران کے صدر احمدی نژاد پر جوتے سے حملہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

اس واقعے کی ایک ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ حملے کی کوشش کرنے والے شخص نے صدر احمدی نژاد کو ’بزدل‘ کہا اور انہیں جوتا دکھایا۔

ابھی یہ معلوم نہیں ہوا ہے کہ اس حملے کے پیچھے کیا مقصد تھا حالانکہ بعض رپورٹوں میں کہا جارہا ہے اس کی وجہ ایران کی شامی حکومت کو حمایت ہے۔

یہ واقعہ منگل کو اس وقت پیش آیا جب صدر احمدی نژاد قاہرہ میں واقع الحسین مسجد کا دورہ کرکر مسجد سے باہر نکل رہے تھے۔

ترکی کی نیوز ایجنسی انادولو نے اس واقعے کا ایک ویڈیو جاری کیا ہے جس میں ایک شخص اپنے ہاتھ میں جوتا لیے ہوئے بھیڑ سے آگے آتا ہے اور جوتا پھینکنے کی کوشش کرتا ہے۔

ایک عینی شاہد نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہے کہ یہ شخص باڈی گارڈ کو دھکا دے کر آگے بڑھا۔

لب و لہجے سے شامی شہر لگنے والے اس شخص کو پولیس نے گرفتار کرلیا گیا ہے۔

اس واقعے کے پیچھے کا مقصد ابھی واضح نہیں ہے لیکن ایران کے صدر کے اس دورے سے مصر کےسنی طبقے کے درمیان بے چینی پائی جاتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق الحسین مسجد کے باہر چار نوجوانوں نے ایرانی صدر کی مخالف میں مظاہرہ کیا، ان نوجوانوں نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھارکھے تھے جس میں انہوں نے ایران کی شامی صدر بشر الاسد کی حمایت پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

واضح رہے کہ بدھ کو مصر کے اعلی سنی مذہبی رہنما شیخ احمد الطیب نے احمدی نژاد کو سنی عرب ممالک سے رابطے قائم کرنے پر وارننگ دی ہے۔

مصر کی جامع اظہر کے مفتی اعظم شیخ احمد الطیب نے کہا ہے کہ ایران عرب ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔

ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد احمدی نژاد مصر کا دورہ کرنے والے پہلے لیڈر ہیں اور عرب ممالک میں کسی ایرانی لیڈر کے ساتھ اس طرح کا رویہ بائیس بے عزتی ہے۔

احمدی نژاد اسلامی ممالک کی تنظیم ’آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن‘ یا او آئی سی کے ایک اجلاس میں شرکت کے لیے مصر پہنچے ہیں۔

یہ کانفرنس بدھ کو شروع ہوئی ہے اس دورہ کے دوران ہی مصری صدر اپنے ایرانی ہم منصب احمدی نژاد سے بھی ملاقات کریں گے۔

جون میں منعقد ہونے والے انتخابات اور صدر محمد مرسی کے منتخب ہونے کے بعد سے ایران اور مصر کے درمیان تعلقات پہلے سے بہتر ہوئے ہیں۔

لیکن دونوں ملکوں میں شام کے تنازعے سمیت کئی امور پر اختلافات بھی پائے جاتے ہیں۔

اس سے پہلے مصر کے صدر محمد مرسی نے اگست میں ایران کا دورہ کیا تھا اور تبھی دونوں رہنماؤں نے سفارتی تعلقات بحال کرنے اور سفار خانے قائم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

ایران میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد اکثریت میں ہیں تو مصر خطے میں ایک اثر و رسوخ والی سنی ریاست اور تاریخی اعتبار سے بڑی اہیمت کا حامل ملک ہے۔

شیعہ اور سنی مسلک کے اختلافات دونوں ممالک کے اختلافات میں نمایاں اہمیت رکھتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔