ایران پر عائد امریکی پابندیوں میں اضافہ

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 7 فروری 2013 ,‭ 00:33 GMT 05:33 PST

امریکہ نے ایران کے مبینہ جوہری پروگرام کی وجہ سے اس پر عائد پابندیاں مزید سخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

نئی پابندیوں کے تحت ایران کو تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی پر رسائی مزید محدود ہو جائے گی۔

اس کے علاوہ ایران کے سرکاری میڈیا پر بھی مالی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ ان پابندیوں کا اطلاق امریکی کانگریس کی جانب سے چھ ماہ قبل پاس کیے جانے والے ایک بل کے تحت ہو رہا ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے بین الاقوامی مذاکرات رواں ماہ کے آخر میں منعقد ہوں گے۔

نئی پابندیوں کے تحت ایران کی جانب سے چین، بھارت اور ترکی سمیت نو ممالک کو فروخت کیے جانے والے تیل کی قیمت اب انہی ممالک میں ایک اکاؤنٹ میں جمع کروائی جائے گی اور اس رقم کو واپس ایران نہیں بھیجا جا سکے گا اور اس رقم کو ایران صرف دیگر ممالک سے اشیاء کی خریداری کے لیے استعمال کر سکے گا۔

ایران کے متنازع جوہری پروگرام کے باعث سنہ دو ہزار گیارہ میں امریکہ کی سربراہی میں متعدد مغربی ممالک کی ایران پر تیل کی خرید و فروخت سمیت عائد مالی پابندیوں کے بعد سے ایرانی کرنسی کی قدر میں اسی فیصد تک کمی ہو گئی ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ ڈیوڈ کوہن نے کہا ہے امریکہ ایران پر عائد پابندیوں میں اس وقت تک سختی کرتا رہے گا جب تک ایران اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے بین الاقوامی برادری کے خدشات کو دور نہیں کرتا۔

انہوں نے کہا امریکہ خاص طور پر ان افراد کی بھی نشاندہی کرے گا جو ایران میں انسانی حقوق کی خلاف وزری کے مرتکب ہیں اور وہ ایرانی باشندوں کا آزادئ اظہار کا حق تسلیم نہیں کرتے۔

امریکہ نے ایران کے سرکاری میڈیا اور اس کے ڈائریکٹر عزت اللہ زرغامی کے خلاف غیر ملکی ٹی چینلز جن میں بی بی سی اور وائس آف امریکہ بھی شامل ہیں کی نشریات کو جام کرنے کے خلاف پابندیاں عائد کی ہیں۔

امریکہ اور مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کی آڑ میں جوہری ہتھیار بنا رہا ہے تاہم ایران کا ہمیشہ سے اصرار رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔