ڈرون سے متعلق امریکی سینیٹ میں سماعت

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 7 فروری 2013 ,‭ 12:41 GMT 17:41 PST
 ڈرون

ڈرون حملے کسی قانون کے تحت نہیں بلکہ خفیہ جنگ جیتنے کی غرض سے ٹارگیٹ کلنگ کے لیے چلائے جاتے ہیں

امریکہ کی سینیٹ میں جمعرات کو ڈرون حملوں سے متعلق پہلی بار سماعت ہوگی جس میں سی آئی اے کے ممکنہ نئے سربراہ جان برینن اپنا موقف پیش کریں گے۔

آج کل ڈرون حملوں کا ذکر امریکی میڈیا میں ہو رہا ہے اور یہ پہلا موقع ہوگا جب سینیٹ میں اس موضوع پر باضابطہ طور پر بات ہوگی۔

صدر براک اوباما نے انسداد دہشتگردی کے لیے اپنی ٹیم میں جان برینن کو شامل کیا ہے جو ڈرون آپریشن کے ماہر مانے جاتے ہیں۔ اب وہ اپنے تاریک بنکر سے نکل کر وائٹ ہا‎ؤس کی ٹیم کا حصہ بننے والے ہیں۔

سینیٹ کی سماعت کے دوران وہ ڈرون حملوں میں توسیع کے منصوبے کا خاکہ پیش کریں گے اور امکان ظاہر کیا جار ہا ہے کہ سینیٹ اس کو منظور کر لے گی۔

ستاون سالہ جان برینن نے پچیس برس سی آئی اے میں گزارے ہیں اور اوباما نے انہیں اب اسی ادارے کا سربراہ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

نوے کی دہائی میں وہ سعودی عرب میں تعینات تھے جبکہ نیو یارک پر حملے کے بعد سے وہ سی آئی اے کے سربراہ کی ٹیم میں چیف آف سٹاف کے عہدے پر تعینات رہے۔

بنکر سے وائٹ ہاؤس

صدر براک اوباما نے انسداد دہشتگردی کے لیے اپنی ٹیم میں جان برینن کو شامل کیا ہے جو ڈرون آپریشن کے ماہر مانے جاتے ہیں۔ اب وہ اپنے تاریک بنکر سے نکل کر وائٹ ہا‎ؤس کی ٹیم کا حصہ بننے والے ہیں۔

دو ہزار نو میں انہیں براک اوباما کے دورِ اقتدار میں سی آئي کے سربراہ کے لیے نامزد کیاگيا تھا لیکن اسی دوران بش کے دور میں قیدیوں پر تشدد کے واقعات سامنے آنے شروع ہوئے اس لیے ان کا نام پیش نہیں کیا گیا۔

امریکی حکومت ڈرون حملوں کو تو تسلیم کرتی ہے لیکن اس کی تفصیلات کبھی نہیں بتاتی اور شاید سینیٹ میں اسی مسئلے پر توجہ دی جائے۔

جان برینن ڈرون حملوں کا آپریشن چلانے اور اس میں توسیع کے لیے کام کرتے رہے ہیں اور سینیٹ میں جان برینن کے اس کردار پر بہت گہری نظر ڈالی جائے گی۔

جان برینن کی نامزدگی کی سماعت ایک ایسے وقت ہورہی ہے جب امریکی میڈیا نے یہ خبر دی ہے کہ سی آئی اے ڈرون حملوں کے لیے گذشتہ دو سال سے سعودی عرب کے ایک خفیہ فضائی اڈے کو استعمال کر رہی ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق یہ خفیہ فضائی اڈہ جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے شدت پسندوں کی تلاش کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

امریکی افسران نے روزنامہ نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ پہلی مرتبہ سی آئی اے نے اس اڈے کا استعمال العولقی کو ہلاک کرنے کے لیے کیا تھا اور اس کے بعد سے سی آئی اے کو یمن میں اہم اہداف کو نشانہ بنانے کا مشن دیا گیا تھا۔

امریکی ذرائع ابلاغ میں اب ڈرون کے تذکروں سے عوام میں بھی یہ بات عام ہورہی ہے۔

ایک امریکی تنظیم ’دی نیو امریکن فاؤنڈیشن‘ کے تخمینے کے مطابق صرف پاکستان میں ہی ڈرون حملوں سے اب تک دو ہزار سے ساڑھے تین ہزار افراد تک ہلاک ہوچکے ہیں جس میں متعدد عام شہری بھی ہیں۔

جان برینن اس سلسلے میں کچھ اصول و ضوابط طے کرنے کے لیے کافی عرصے سے کام کرتے رہے ہیں۔ لیکن سی آئی اے پر ان اصولوں پر عمل کرنا لازم نہیں ہوگا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔