امریکہ کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات مسترد

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 7 فروری 2013 ,‭ 11:10 GMT 16:10 PST

ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای نے ملک کے ایٹمی پروگرام پر امریکہ کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کی تجویز کو مسترد کردیا ہے۔

آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایک تقریر میں کہا ہے کہ امریکہ ایک طرف مذاکرات کرنے کی بات کر رہا ہے اور دوسری جانب اس نے ’ایران پر بندوق تان رکھی ہے‘۔

واضح رہے کہ امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے گزشتہ سنیچیر کو کہا تھا کہ اگر ایران سنجیدہ ہو تو امریکہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

امریکی نائب صدر نے جرمنی میں بات کرتے ہوئے کہا تھا ’ہم ایران کی قیادت کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور ان مذاکرات کو ہم چھپائیں گے نہیں بلکہ ہم اپنے اتحادیوں کو بھی اس سے آگاہ کریں گے۔ اگر دوسری جانب سے کوئی پیش قدمی دکھائی جاتی ہے تو مذاکرات کی دعوت موجود ہے لیکن وہ سنجیدگی پر مبنی ہونی چاہیے۔ ہم یہ مذاکرات صرف ایک مشق کے طور پر کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘

امریکی نائب صدر کے بیان کے بعد ایرانی وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے کہا تھا کہ وہ امریکہ کے ساتھ ایران کے ایٹمی پروگرام کے تناظر میں براہ راست مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

علی اکبر صالحی نے یہ بات جرمنی میں ایک سکیورٹی کانفرنس کے دوران کہی۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم نے بغداد میں امریکہ کے ساتھ کئی بار دو طرفہ مذاکرات کیے ہیں۔ مذاکرات میں ہر موضوع پر بات ہو سکتی ہے۔ اگر مذاکرات کا موضوع ایران کا جوہری پروگرام ہے تو ہاں ہم اس پر بھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ لیکن اس بار ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ دوسری جانب سے مسئلے کے حل کے لیے مربوط لائحہ عمل اختیار کیا جائے‘۔

انہوں نے امریکہ کی جانب سے مزید پابندیوں کی دھمکیوں کے حوالے سے مزید کہا کہ ’یہ دونوں متضاد باتیں ہیں کہ ایک جانب تو آپ کہیں کہ ہم ایران کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں اور دوسری جانب آپ دھمکیاں دیں۔ یہ دونوں باتیں ایک دوسرے ساتھ متصادم ہیں۔ اگر امریکہ اچھی نیت کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہے تو ہم بھی اسے سنجیدگی سے لیں گے‘۔

یاد رہے کہ ایک روز قبل ہی امریکہ نے ایران کے مبینہ جوہری پروگرام کی وجہ سے اس پر عائد پابندیاں مزید سخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

نئی پابندیوں کے تحت ایران کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی پر رسائی مزید محدود ہو جائے گی۔

اس کے علاوہ ایران کے سرکاری میڈیا پر بھی مالی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ ان پابندیوں کا اطلاق امریکی کانگریس کی جانب سے چھ ماہ قبل پاس کیے جانے والے ایک بل کے تحت ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔