فلسطین:قومی حکومت پر حماس اور فتح کے مذاکرات

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 7 فروری 2013 ,‭ 03:51 GMT 08:51 PST
فائل فوٹو

’ہم مفاہمت کی جانب بڑھ رہے ہیں اور قومی مفاہمتی حکومت کی تشکیل پر مشاورت کر رہے ہیں‘

فلسطینی گروپ حماس کے رہنما خالد مشعل نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ ایک قومی اتحادی حکومت کے قیام کے سلسلے میں فلسطینی صدر اور الفتح کے رہنما محمود عباس سے بات چیت کر رہے ہیں۔

بی بی سی کے پروگرام ہارڈ ٹاک میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فلسطین میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے سلسلے میں بھی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔

حماس غزہ اور الفتح غرب اردن میں حکمران ہے اور ان دونوں گروپوں میں کشیدگی کی وجہ سے فلسطین میں کئی برس سے صدارتی یا پارلیمانی انتخابات کے لیے قومی سطح پر ووٹنگ نہیں ہو سکی ہے۔

حماس اور الفتح کی راہیں اس وقت جدا ہوگئی تھیں جب حماس نے سال دو ہزار سات میں پرتشدد تصادم کے بعد الفتح کو غزہ سے نکال کر زبردستی وہاں کا انتظام سنبھال لیا تھا۔ تاہم حال ہی میں دونوں جماعتوں کے تعلقات میں بہتری آئی ہے اور دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو غرب اردن اور غزہ میں جلسوں کی اجازت دی۔

الفتح اور حماس کے درمیان تقریباً دو سال پہلے مصالحت کا ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت نگران حکومت کا قیام اور اس کی مدد سے مئی سال دو ہزار بارہ میں نئے انتخابات کا انعقاد تھا۔تاہم اس معاہدے پر عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔

تاہم اب خالد مشعل نے کہا ہے کہ ’ہم مفاہمت کی جانب بڑھ رہے ہیں اور قومی مفاہمتی حکومت کی تشکیل پر مشاورت کر رہے ہیں۔ صدارتی، پارلیمانی اور کونسل انتخابات کے لیے تیاریاں جاری ہیں‘۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’ہم پی ایل او کا احیاء بھی کر رہے ہیں اور نئی قومی کونسل اور ایگزیکٹو کمیٹی کے انتخاب تک اس کے اجلاسوں کا انعقاد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں‘۔

شام کے صدر اور حماس کے تعلقات کے بارے میں خالد مشعل کا کہنا تھا کہ شام میں جاری حالیہ تنازع سے نمٹنے کے طریقے سے اختلاف کے بعد ان کی جماعت کو دمشق سے نکال دیا گیا ہے لیکن شامی صدر بشار الاسد اب بھی حماس کی حمایت کرتے ہیں۔

حماس اور الفتح کی اسرائیل کے بارے میں پالیسی میں بنیادی فرق ہے۔ حماس اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کرتا اور تشدد ترک کرنے پر رضامند نہیں ہے اور نہ ہی فلسطینی اتھارٹی کے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کو تسلیم کرتا ہے۔

حماس کو اسرائیل، یورپی یونین اور امریکہ دہشت گرد گروپ قرار دے چکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔